خواتین ریزرویشن پر سیاست تیز: مالے–ایپوا کا بی.جے.پی پر حملہ، 24 اپریل کو بہار بھر میں بند جیسا ریاست گیر احتجاج

خواتین کے ریزرویشن کے مسئلے پر بہار کی سیاست ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے۔ بھاکپا–مالے اور اس سے وابستہ خواتین تنظیم ایپوا نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر “جھوٹ پھیلانے” کا الزام عائد کرتے ہوئے 24 اپریل کو پورے بہار میں ریاست گیر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ پارٹی کی ریاستی مستقل کمیٹی کی ایک روزہ میٹنگ میں لیا گیا، جو پیر کے روز پٹنہ میں واقع ریاستی دفتر میں منعقد ہوئی۔

میٹنگ میں پارٹی کے ریاستی سکریٹری کنال سمیت کئی سینئر رہنما موجود تھے۔ رہنماؤں نے حال ہی میں پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بلوں اور ان کے مسترد ہونے کے بعد کیے جا رہے “گمراہ کن پروپیگنڈہ” کی سخت مذمت کی۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ خواتین ریزرویشن کا قانون ستمبر 2023 میں ہی پارلیمنٹ سے منظور ہو چکا ہے، جبکہ حال ہی میں جو بل گرا وہ حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) سے متعلق تھا، نہ کہ خواتین ریزرویشن سے۔

پارٹی نے مرکز سے یہ تیکھا سوال کیا کہ خواتین ریزرویشن کو نافذ کرنے کے لیے حلقہ بندی کو لازمی شرط کیوں بنایا جا رہا ہے۔ میٹنگ میں زور دے کر مطالبہ کیا گیا کہ بغیر کسی تاخیر کے خواتین ریزرویشن کو فوراً نافذ کیا جائے اور حلقہ بندی جیسے پیچیدہ مسئلے پر وسیع قومی اتفاق رائے قائم کیا جائے۔

کمیٹی نے یہ بھی الزام لگایا کہ مرکز نے جان بوجھ کر خواتین ریزرویشن کو مردم شماری اور حلقہ بندی سے جوڑ کر اس عمل کو طول دینے کی کوشش کی ہے۔ رہنماؤں کے مطابق مردم شماری میں تاخیر کے باعث اب اس مسئلے کو ایک “غیر شفاف اور مشکوک” حلقہ بندی کے عمل کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا تھا، جسے پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن نے بے نقاب کر دیا۔

میٹنگ میں “کوٹے کے اندر کوٹہ” کے مطالبے کو بھی نمایاں طور پر اٹھایا گیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ خواتین ریزرویشن کے اندر پسماندہ، دلت اور اقلیتی طبقوں کی خواتین کے لیے الگ حصہ داری یقینی بنائے بغیر سماجی انصاف ادھورا رہے گا۔

اس کے ساتھ ہی کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کی تاریخ میں کبھی بھی ریزرویشن نافذ کرنے کے لیے پارلیمنٹ یا اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ جیسی شرط نہیں رکھی گئی۔ اس لیے موجودہ شرائط کو “غیر ضروری اور سیاسی” قرار دیا گیا۔

بھاکپا–مالے نے بی جے پی پر “جھوٹ اور گمراہ کن مہم” چلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 24 اپریل کو ہونے والا ریاست گیر احتجاج اس مسئلے پر عوامی بیداری پیدا کرے گا اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کا کام کرے گا۔ پارٹی نے اشارہ دیا کہ اس مسئلے پر مہاگٹھ بندھن کے دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کر کے مشترکہ تحریک شروع کی جائے گی۔

میٹنگ میں بہار کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور 16 سے 18 مئی تک دربھنگہ میں ہونے والے ریاستی کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

خواتین ریزرویشن کے سوال پر تیز ہوتی یہ سیاسی لڑائی آنے والے دنوں میں بہار کی سیاست کو مزید تیز کر سکتی ہے، خاص طور پر جب اپوزیشن اسے عوامی تحریک کی شکل دینے کی تیاری کر رہی ہے۔

مدارس کے طلبہ، ٹرینوں میں رکاوٹ اور ہماری ذمہ داریاں: نقی احمد ندوی

سفر کے دوران مدارس کے طلبہ کو ٹرینوں میں روکے جانے کے واقعات مسلسل بڑھتے