بہار کی سیاست نے بدھ کے روز ایک فیصلہ کن موڑ لیتے ہوئے ایک نئے دور میں قدم رکھ دیا۔ طویل عرصے تک ریاستی اقتدار کے مرکز میں رہنے والے نتیش کمار کے استعفے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر سمراٹ چودھری نے ریاست کے 24ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔ راج بھون کے لوک بھون میں منعقدہ تقریب میں گورنر سید عطا حسنین نے انہیں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ اس حلف کے ساتھ ہی تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہنے والے ‘نتیش دور’ کا باضابطہ اختتام ہو گیا اور اقتدار کی باگ ڈور نئی قیادت کے ہاتھوں میں آ گئی۔سمراٹ چودھری کا وزیر اعلیٰ کے عہدے تک پہنچنا ایک طویل سیاسی سفر کا نتیجہ ہے۔ 1990 کی دہائی میں سرگرم سیاست میں داخل ہونے والے چودھری نے مختلف مراحل میں اپنی سیاسی شناخت کو مضبوط کیا۔ سال 1999 میں وہ رابڑی دیوی کی حکومت میں وزیر زراعت بنے، تاہم کچھ تکنیکی وجوہات کی بنا پر انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد 2014 میں انہوں نے نتیش کمار کی قیادت والی حکومت میں شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے وزیر کے طور پر کام کیا۔ سال 2021 میں پنچایتی راج کے وزیر اور 2024 میں نائب وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اب وہ ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ انہیں ایک صاف گو، جارحانہ اور تنظیمی طور پر مضبوط لیڈر کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جن کی گرفت پارٹی اور سماجی مساوات دونوں پر مضبوط مانی جاتی ہے۔یہ اقتدار کی تبدیلی صرف قیادت کا بدلاؤ نہیں بلکہ بہار کی سیاست میں طاقت کے توازن کی ازسرِ نو ترتیب کا اشارہ بھی ہے۔ نتیش کمار، جنہوں نے 2005 کے بعد سے ریاست میں حکمرانی اور ترقی کی سمت طے کی، اب راجیہ سبھا کے رکن بننے کے بعد وزیر اعلیٰ کے عہدے سے الگ ہو چکے ہیں۔ ان کے استعفے نے اس سیاسی دور کا خاتمہ کر دیا، جو طویل عرصے تک استحکام اور اتحاد کی سیاست کے لیے جانا جاتا رہا۔نئی حکومت میں توازن برقرار رکھنے کے لیے جے ڈی یو کوٹے سے دو سینئر لیڈروں کو نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے۔ وجے کمار چودھری اور وجیندر پرساد یادو نے بھی عہدے اور رازداری کا حلف لیا۔ دونوں رہنماؤں کا تجربہ اور سیاسی گرفت حکومت کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔وجے کمار چودھری کی سیاسی زندگی چار دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ انہوں نے 1982 میں کانگریس کے ٹکٹ پر پہلی بار اسمبلی میں قدم رکھا اور بعد میں جنتا دل (یو) کے ساتھ جڑ کر نتیش کمار کے معتمد ساتھی بنے۔ تعلیم، آبی وسائل اور پارلیمانی امور جیسے اہم محکموں کی ذمہ داری سنبھالنے کے علاوہ وہ بہار اسمبلی کے اسپیکر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی شبیہ ایک متوازن اور انتظامی تجربے سے بھرپور رہنما کی رہی ہے۔دوسری طرف، وجیندر پرساد یادو ریاستی سیاست میں اپنی مضبوط زمینی گرفت اور مسلسل انتخابی کامیابی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ جنتا دل سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرنے والے یادو، لالو پرساد یادو کی حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ سپول اسمبلی حلقے سے مسلسل نو بار ایم ایل اے منتخب ہونا ان کی عوامی حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔ سال 2005 کے بعد سے وہ نتیش کمار کے ساتھ حکومت میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں اور توانائی، خزانہ سمیت کئی اہم محکموں کی قیادت کر چکے ہیں۔حلف برداری کی تقریب کے سلسلے میں دارالحکومت پٹنہ میں وسیع پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ ہزاروں پولیس اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے درمیان یہ پروگرام مکمل ہوا۔ این ڈی اے کارکنان میں جہاں جوش و خروش کا ماحول دیکھنے کو ملا، وہیں مختلف سیاسی جماعتوں کے ردعمل بھی سامنے آئے۔ حکومتی اتحاد نے اسے ترقی کے تسلسل اور نئی قیادت کے آغاز کے طور پر پیش کیا، جبکہ اپوزیشن نے اس تبدیلی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے عوامی مینڈیٹ کے خلاف قدم قرار دیا۔بہار اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں نئی حکومت کے سامنے کئی اہم چیلنجز ہیں۔ ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنا، اتحاد کے اندر توازن قائم رکھنا اور روزگار، تعلیم اور صحت جیسے مسائل پر ٹھوس نتائج دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔اس طرح، سمراٹ چودھری کی قیادت میں بنی یہ نئی حکومت نہ صرف اقتدار کی تبدیلی کی علامت ہے بلکہ ریاست کی سیاسی سمت اور ترقی کی رفتار کو بھی متاثر کرے گی۔ ‘نتیش دور’ کے بعد شروع ہونے والا یہ ‘سمراٹ دور’ اب اپنے فیصلوں اور پالیسیوں کی بنیاد پر بہار کے مستقبل کی نئی داستان لکھنے کے چیلنج کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
“بہار میں اقتدار کی تبدیلی کا تاریخی دن: سمراٹ چودھری 24ویں وزیر اعلیٰ بن گئے، نتیش کمار دور کا خاتمہ؛ وجے کمار چودھری اور وجیندر پرساد یادو نائب وزرائے اعلیٰ، نئے سیاسی اتحاد کے ساتھ بہار میں ‘سمراٹ دور’ کا آغاز”
انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیئری گائیڈ لائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) سیکنڈ ترمیمی قواعد 2026 کے
بہار کی سیاست نے بدھ کے روز ایک فیصلہ کن موڑ لیتے ہوئے ایک نئے
بہار کی سیاست نے ۱۴ اپریل ۲۰۲۶ کو ایک تاریخی موڑ لیتے ہوئے ایک طویل
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ۔لیننسٹ) (مالے) کی پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم نے سیوان کے حسن
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے اور نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی
عراق کی سیاست میں طویل عرصے سے جاری اقتدار کا بحران بالآخر ختم ہو گیا
مغربی ایشیا اس وقت شدید سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے،
مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے درمیان پاکستان اور سعودی عرب کے