آئی ٹی قواعد 2026 پر تنازع گہرا: میڈیا تنظیموں کی مشترکہ پریس کانفرنس، حکومت سے مسودہ واپس لینے کا مطالبہ

انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیئری گائیڈ لائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) سیکنڈ ترمیمی قواعد 2026 کے مجوزہ مسودے پر ملک بھر میں مخالفت تیز ہو گئی ہے۔ صحافتی تنظیموں، ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین اور آزاد تخلیق کاروں کی جانب سے شدید اعتراضات کے درمیان نئی دہلی میں میڈیا اداروں کی مشترکہ پریس کانفرنس نے اس معاملے کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے۔

پریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ اس مشترکہ پریس کانفرنس میں ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا، ڈیجی پب، انڈین ویمنز پریس کور، نیٹ ورک آف ویمن ان میڈیا اور دہلی یونین آف جرنلسٹس سمیت کئی اہم تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین نے متفقہ طور پر کہا کہ مجوزہ آئی ٹی قواعد آزادیٔ اظہار اور صحافتی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور انہیں فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔

پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ مجوزہ ترامیم کے تحت حکومت کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہو جائیں گے، خاص طور پر شق 3(4) کے ذریعے، جس کے تحت حکومتی ایڈوائزریز اور ہدایات کو لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔ مقررین کے مطابق اس سے غیر رسمی حکومتی احکامات کو قانونی حیثیت مل جائے گی، جس سے پارلیمانی نگرانی اور شفافیت کمزور ہو جائے گی۔

صحافتی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان قواعد کے نفاذ سے “سیف ہاربر” کا تصور متاثر ہوگا، جس کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کے مواد پر قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ اگر یہ تحفظ ختم ہوتا ہے تو پلیٹ فارمز خود کو بچانے کے لیے پیشگی طور پر مواد ہٹانے پر مجبور ہوں گے، جس سے وسیع پیمانے پر سنسرشپ کا خدشہ پیدا ہوگا۔

پریس کانفرنس میں آزاد تخلیق کاروں اور فری لانسرز کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ مقررین کے مطابق یوٹیوبرز، پوڈکاسٹرز اور انفرادی صحافی سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، کیونکہ نئے قواعد کا تعمیلی بوجھ ان کے لیے مالی طور پر ناقابلِ برداشت ہوگا۔ اس کے ساتھ ایک “چِلنگ ایفیکٹ” پیدا ہوگا، جس کے باعث لوگ کسی بھی ممکنہ کارروائی کے خوف سے خود سنسرشپ اختیار کرنے لگیں گے۔

مقررین نے مواد ہٹانے کے وقت کو 36 گھنٹوں سے کم کر کے چند گھنٹوں تک محدود کرنے کی تجویز کو بھی غیر عملی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے کم وقت میں کسی بھی مواد کی مناسب جانچ ممکن نہیں، جس کے نتیجے میں غلط اور غیر ضروری مواد بھی ہٹا دیا جائے گا۔

“سہیوگ پورٹل” کے حوالے سے بھی سخت اعتراضات سامنے آئے۔ مقررین کے مطابق یہ پورٹل مختلف سرکاری ایجنسیوں کو ایک نیٹ ورک میں جوڑتا ہے، جس کے ذریعے ملک بھر میں کہیں سے بھی مواد ہٹانے کے احکامات دیے جا سکتے ہیں، اور اس عمل میں عدالتی نگرانی کا فقدان ہے۔

قانونی ماہرین نے اس موقع پر سپریم کورٹ کے فیصلے شریا سنگھل بنام یونین آف انڈیا (2015) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مواد ہٹانے کے لیے طے شدہ قانونی طریقہ کار کی پابندی ضروری ہے، جبکہ مجوزہ قواعد ان اصولوں کو کمزور کرتے ہیں۔

دوسری جانب، مختلف رپورٹس اور مباحثوں میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ترامیم “ہارڈ لا” اور “سافٹ لا” کے درمیان فرق کو ختم کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں غیر رسمی حکومتی ہدایات بھی قانونی حیثیت اختیار کر لیں گی۔ اس سے سنسرشپ کے ایک منظم ڈھانچے کے قیام کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر میڈیا تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئی ٹی قواعد 2026 کے مسودے کو مکمل طور پر واپس لیا جائے، مواد ہٹانے کے لیے قانونی طریقہ کار پر سختی سے عمل کیا جائے، سہیوگ پورٹل کو بند کیا جائے اور کسی بھی نئی قانون سازی سے قبل تمام متعلقہ فریقین سے وسیع مشاورت کی جائے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ ترامیم غلط معلومات، ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے مواد کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے آن لائن اظہار اور تنقید کو محدود کرنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ مسودہ موجودہ شکل میں نافذ کیا گیا تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سول سوسائٹی اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے اس کے خلاف تحریک مزید تیز ہونے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

بہار میں ذہنی صحت پر ہائی کورٹ سخت: حکومت سے جواب طلب، 8 مئی تک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت

بہار میں ذہنی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے معاملات اور سڑکوں پر بے سہارا گھومتے مریضوں