پاکستان کی اپیل پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کر دی، لیکن آبنائے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی جاری؛ پہلے بمباری کی دھمکی دی تھی، مذاکرات پر اب بھی غیر یقینی صورتحال

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے بیچ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے جنگ بندی کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ قدم پاکستان کی درخواست پر اٹھایا گیا ہے تاکہ ایران کو مذاکرات کے لیے ایک “متحدہ تجویز” تیار کرنے کا وقت مل سکے۔

ٹرمپ کے مطابق، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فوجی سربراہ عاصم منیر نے ان سے فوجی کارروائی روکنے کی اپیل کی تھی۔ اس کے بعد امریکہ نے عارضی طور پر حملے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم، ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے آبنائے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کو “مکمل طور پر تیار” رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو امریکہ دوبارہ بمباری شروع کر سکتا ہے۔ چند ہی گھنٹوں میں آنے والی اس تبدیلی نے امریکہ کی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ادھر ایران نے امریکی اعلان پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ایک مشیر نے اسے “ممکنہ چال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اچانک حملے کی تیاری بھی کر سکتا ہے۔

دریں اثنا، اسلام آباد میں مجوزہ دوسرے دور کے مذاکرات کے حوالے سے صورتحال ابھی تک واضح نہیں ہے۔ ایران نے اس میں شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

تناؤ کے درمیان خلیجِ عمان میں “توسکا” نامی ایرانی جہاز کو امریکی فوج کی جانب سے روکنے کا معاملہ بھی تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ امریکہ اسے سیکیورٹی اقدام بتا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود حالات اب بھی نازک ہیں۔ ناکہ بندی، دھمکیوں اور باہمی عدم اعتماد کے باعث خطے میں کشیدگی مکمل طور پر کم نہیں ہوئی ہے۔

اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا ایران مذاکرات کے لیے آگے بڑھتا ہے اور کیا موجودہ سفارتی کوششیں کسی مستقل حل تک پہنچ پاتی ہیں۔

بہار میں ذہنی صحت پر ہائی کورٹ سخت: حکومت سے جواب طلب، 8 مئی تک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت

بہار میں ذہنی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے معاملات اور سڑکوں پر بے سہارا گھومتے مریضوں