مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکے بعد دیگرے کئی بیانات دے کر بین الاقوامی سیاست میں ہلچل تیز کر دی ہے۔ ان کے بیانات میں جہاں اسرائیل کے حق میں کھلا حمایت نظر آیا، وہیں ایران، نیٹو اور یورپی ممالک پر بھی سخت تنقید سامنے آئی ہے۔
اسرائیل کی کھل کر حمایت
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ “لوگ چاہے اسرائیل کو پسند کریں یا نہ کریں، لیکن اس نے خود کو امریکہ کا ایک عظیم اتحادی ثابت کیا ہے۔” یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نہایت حساس بنی ہوئی ہے۔
بحیرہ عرب میں امریکی ناکہ بندی مہم
اس دوران امریکی فوجی کمان، امریکی مرکزی کمان نے بتایا کہ بحریہ کا ایمفیبیئس جنگی جہاز یو ایس ایس رش مور بحیرہ عرب میں ناکہ بندی کی کارروائی انجام دے رہا ہے۔ اس اقدام کو خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
*ایران سے بات چیت، مگر سخت وارننگ
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان “بہت اچھی بات چیت” جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ کوئی معاہدہ ممکن ہے۔ تاہم انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ “ایران ہمیں آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میل نہیں کر سکتا۔”
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم تیل بردار راستوں میں سے ایک ہے اور یہاں کسی بھی قسم کا بحران عالمی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے۔
اسپین کی معاشی حالت پر سوال
ٹرمپ نے یورپی ملک اسپین کی معاشی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اسپین کے مالی حالات خراب ہیں، اس کے باوجود وہ دفاعی ذمہ داریوں میں متوقع حصہ نہیں ڈال رہا۔
نیٹو کو “بیکار” قرار
ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس کی مدد کی ضرورت نہیں ہے اور یہ تنظیم ان کے لیے “بیکار” ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیٹو ان سے دور رہے۔
ایران کی عسکری صلاحیت پر تنقید
ٹرمپ نے ایران پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس کے پاس نہ مضبوط بحریہ ہے، نہ مؤثر فضائیہ اور نہ ہی قابل قیادت۔ انہوں نے کہا کہ “گزشتہ 47 برسوں سے ایران چالاکی کرتا آیا ہے، لیکن اب اسے سخت جواب ملا ہے۔”
پاکستانی قیادت کی کھل کر تعریف
ان بیانات کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کی بھی کھل کر تعریف کی۔ انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں نے ان کی مدد کی اور وہ “بہت عظیم لوگ” ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ مدد کس تناظر میں تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز پر ممکنہ بحران، امریکی عسکری سرگرمیاں اور نیٹو پر اٹھنے والے سوالات آنے والے وقت میں عالمی سیاست کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر سفارتی حل نہ نکلا تو یہ صورتحال ایک بڑے جغرافیائی و سیاسی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔