بہار کی سیاست میں ہفتہ کے روز اس وقت ہلچل تیز ہو گئی جب جن سوراج پارٹی نے پٹنہ میں اپنے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری پر سخت حملہ کیا۔ پارٹی رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ کی تعلیمی اہلیت، قانون و نظم کی صورتحال اور ان کے ماضی سے جڑے مبینہ معاملات کو لے کر کئی سنگین سوالات اٹھائے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی صدر منوج بھارتی نے کہا کہ بہار میں قیادت کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جس چہرے پر الیکشن لڑا گیا، اسے محض چھ ماہ کے اندر اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور اب ریاست کی باگ ڈور ایسے شخص کو سونپ دی گئی ہے جن کی تعلیمی پس منظر تک واضح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، “علم کی سرزمین بہار میں آج وزیر اعلیٰ ایسے شخص ہیں جن کی تعلیم کے بارے میں بھی واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔”
انہوں نے ریاست کی مالی حالت اور انتظامی نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آدھے سے زیادہ اضلاع میں سرکاری ملازمین کو وقت پر تنخواہ نہیں مل رہی، جو خزانے کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ رہتے ہوئے بھی ریاست میں جرائم کے واقعات میں کمی نہیں آئی، جس سے انتظامی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔
نیٹ طالبہ معاملے پر حکومت گھری
منوج بھارتی نے حال ہی میں سامنے آئے نیٹ طالبہ کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ بننے کے فوراً بعد ہی ملزم کو ضمانت مل جانا کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے اسے حکومت کی بے حسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال میں عوام کا اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔ انہوں نے مظفرپور اور کشن گنج میں حالیہ زیادتی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے قانون و نظم پر بھی تشویش ظاہر کی۔
1999 کا معاملہ پھر زیر بحث
پریس کانفرنس میں پارٹی کے قومی ترجمان کمار سورَو نے وزیر اعلیٰ کے ماضی سے جڑے ایک پرانے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سال 1999 میں اُس وقت کے گورنر کے حکم پر راکیش کمار (جو اب سمراٹ چودھری کے نام سے جانے جاتے ہیں) کو وزیر کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی کسی سیاسی جماعت یا حکومت نے نہیں بلکہ راج بھون کے حکم پر ہوئی تھی۔
کمار سورَو نے الزام لگایا کہ اُس وقت وزیر اعلیٰ پر نام، عمر اور تاریخِ پیدائش میں مبینہ گڑبڑی کی بنیاد پر کارروائی ہوئی تھی اور ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں بھی ان حقائق کا ذکر ہے، جس میں مختلف دستاویزات میں عمر میں بڑا فرق پایا گیا۔
انہوں نے کہا، “یہ کوئی سیاسی الزام نہیں بلکہ راج بھون کے دستاویزات میں درج حقائق ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کو ریاست کی قیادت سونپنا مناسب ہے؟”
مرکزی قیادت پر بھی سوال
جن سوراج رہنماؤں نے اس پورے معاملے کو لے کر مرکزی حکومت کی اعلیٰ قیادت پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف ریاست تک محدود نہیں بلکہ اس کی جوابدہی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
پریس کانفرنس میں پارٹی کے دیگر رہنماؤں—پدما اوجھا، طارق چمپارنِی اور ریکھا گپتا—نے بھی ریاستی حکومت کی پالیسیوں اور کام کرنے کے طریقہ کار پر تنقید کی۔
*سیاسی ماحول گرم
جن سوراج کی اس پریس کانفرنس کے بعد بہار کی سیاست میں بیان بازی کے مزید تیز ہونے کے امکانات ہیں۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ وزیر اعلیٰ اور حکمراں جماعت ان الزامات پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔