مدارس کے طلبہ، ٹرینوں میں رکاوٹ اور ہماری ذمہ داریاں: نقی احمد ندوی

سفر کے دوران مدارس کے طلبہ کو ٹرینوں میں روکے جانے کے واقعات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے جبل پور میں 160 بچوں کو حراست میں لیا گیا جن کی عمر سات سے اٹھارہ برس کے درمیان تھی۔ یہ بچے ارریا اور سپول (بہار) کے رہنے والے تھے۔ اسی طرح 8 اپریل کو مکامہ (بہار) میں تیس بچوں کو حراست میں لیا گیا۔ ابھی حال ہی میں اڑیسہ میں بھی مدارس کے بچوں کی گرفتاری کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات نے مسلمانوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، مگر دوسری طرف ان حالات نے ہمارے تعلیمی، سماجی اور انتظامی نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ آخر یہ چھوٹے بچے ایک صوبے سے دوسرے صوبے تک سفر کرنے پر مجبور کیوں ہیں؟ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ ان کے اپنے علاقوں میں معیاری دینی تعلیم کے مناسب انتظام کا فقدان ہے۔ جب مقامی سطح پر مضبوط مدارس، تربیت یافتہ اساتذہ اور بنیادی سہولیات دستیاب نہ ہوں تو والدین مجبوراً اپنے بچوں کو دوسرے صوبوں کے دور دراز اداروں کی طرف بھیجتے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بہار، بنگال اور اڑیسہ سے بڑی تعداد میں بچے تعلیم کی غرض سے دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں۔ گویا مسئلہ بچوں کے سفر کا نہیں بلکہ ان علاقوں میں تعلیمی خلا کا ہے۔

ایسے واقعات پر مسلم طبقے کی جانب سے حکومت کے خلاف غم و غصہ کا اظہار فطری ہے، مگر اسے محض تعصب یا مسلم دشمنی قرار دے دینا ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں کرتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حالات میں بعض واقعات تشویش کا باعث بنتے ہیں، لیکن صرف ردِعمل دینا یا اسے ایک ہی زاویے سے دیکھنا کافی نہیں۔ ہمیں اس مسئلے کی اصل وجوہات پر غور کر کے اس کا مستقل حل تلاش کرنا ہوگا۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ کم عمر بچوں کو اس طرح کیوں لایا جا رہا ہے؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دینی تعلیم، خصوصاً حفظِ قرآن، کم عمری میں آسان سمجھی جاتی ہے، اور بڑے مدارس میں تعلیم، رہائش اور خوراک کی بہتر سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ نہ صرف انتظامی ہے اور نہ ہی محض کسی تعصب کا نتیجہ، بلکہ یہ ہماری اپنی کوتاہیوں، تعلیمی پسماندگی اور غیر منظم نظام کا عکس ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے خواہاں ہیں تو ہمیں وقتی ردِعمل کے بجائے مستقل اور مثبت اصلاح کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔

اہم تجاویز:

الف : بڑے مدارس جیسے دیوبند، ندوہ، مظاہر العلوم، جامعہ اشرفیہ مبارکپور، جامعہ نظامیہ حیدرآباد، جامعہ سلفیہ بنارس وغیرہ کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ اپنی نگرانی میں ان علاقوں میں معیاری ادارے قائم کریں۔ جہاں تعلیم، رہائش اور خوراک کی ویسی ہی سہولیات مہیا کرانے کی کوشش کریں جوسہولیات ان کے یہاں دی جاتی ہیں۔

ب : ان صوبوں کے اہلِ ثروت اور اہلِ خیر حضرات اپنے علاقوں میں بہترین مدارس کے قیام میں تعاون کریں، جو ان کے لیے ثوابِ دارین کا باعث ہوگا اور تعلیمی ضرورت کو پورا کرے گا۔

ج: ان صوبوں میں موجود مدارس کو اپنے نظام اور انتظام کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ بچوں کو نقل مکانی پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ اگر مقامی سطح پر معیاری مدارس موجود ہوں گے تو کوئی بھی اپنے بچوں کو دور بھیجنا پسند نہیں کرے گا۔

یہ طویل المدتی حل ہیں، لیکن فی الحال جو مدارس ان صوبوں سے بچوں کو تعلیم کے لیے لے جاتے ہیں، انہیں درج ذیل نکات کا خاص خیال رکھنا چاہیے

الف: بہت کم عمر بچوں کو دور دراز کے مدارس لے جانے سے حتی الامکان گریز کیا جائے، تاکہ انسانی اسمگلنگ جیسے شبہات پیدا نہ ہوں۔

ب: طلبہ کے پاس مدرسہ کا داخلہ سرٹیفکیٹ اور والدین کا اجازت نامہ لازمی ہو۔ ساتھ ہی لے جانے والے ذمہ دار شخص کے پاس اپنا شناختی کارڈ اور مدرسہ کی آئی ڈی ہونا ضروری ہے، تاکہ کسی بھی تفتیش کے دوران پریشانی نہ ہو۔

ج: بچوں کی مکمل فہرست تیار کی جائے، اور ان کے آدھار کارڈ یا دیگر شناختی دستاویزات کی نقول ساتھ رکھی جائیں۔ سفر کی مکمل تفصیلات ایک فائل کی صورت میں موجود ہوں۔

د: ریلوے ہیلپ لائن اور چائلڈ پروٹیکشن اداروں کے نمبرز ساتھ رکھے جائیں، تاکہ کسی غیر ضروری دقت کی صورت میں فوری رابطہ کیا جا سکے۔

اگر ان امور کا خیال رکھا جائے تو یقیناً ایسے واقعات میں کافی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

مدارس کے طلبہ، ٹرینوں میں رکاوٹ اور ہماری ذمہ داریاں: نقی احمد ندوی

سفر کے دوران مدارس کے طلبہ کو ٹرینوں میں روکے جانے کے واقعات مسلسل بڑھتے

وفاقیت اور سماجی انصاف کی جیت: آئینی ترمیمی بل 2026 کی ناکامی پر ایس.ڈی.پی.آئی کا بڑا بیان

لوک سبھا میں آئین (ایک سو اکتیسواں ترمیمی) بل، 2026 کی ناکامی کو سوشل ڈیموکریٹک

آئی ٹی قواعد 2026 پر تنازع گہرا: میڈیا تنظیموں کی مشترکہ پریس کانفرنس، حکومت سے مسودہ واپس لینے کا مطالبہ

انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیئری گائیڈ لائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) سیکنڈ ترمیمی قواعد 2026 کے