اُمید پورٹل: وقف جائیدادوں کے ڈیجیٹل اندراج کی مدت میں توسیع سے سپریم کورٹ کا انکار

سپریم کورٹ نے پیر کے روز یہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اُمید “اُمّید پورٹل” پر وقف جائیدادوں کے ڈیجیٹل اندراج کی مدت میں توسیع کے مطالبے پر مداخلت نہیں کرے گا۔ حکومت کی مقرر کردہ آخری تاریخ 6 دسمبر 2024 برقرار رہے گی۔

عدالت نے کہا کہ جن متولیوں یا اداروں کو اندراج میں مشکل پیش آ رہی ہے، وہ براہ راست اپنے متعلقہ وقف ٹریبونل سے رجوع کریں، کیونکہ قانون میں پہلے سے ہی وقت میں توسیع کا اختیار موجود ہے۔

مرکزی حکومت نے 6 جون 2024 کو Unified Waqf Management, Empowerment, Efficiency & Development — یعنی اُمید پورٹل لانچ کیا تھا۔ اس پورٹل کا مقصد ملک بھر کی تمام وقف جائیدادوں کا مرکزی اور ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کرنا اور انتظامی شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔

حکومت نے تمام رجسٹرڈ وقف املاک اور ’Waqf by User‘ دعویدار جائیدادوں کا ڈیٹا چھ ماہ کے اندر پورٹل پر اپ لوڈ کرنا لازمی قرار دیا ہے۔

ڈیڈلائن میں توسیع کے لیے عدالت میں درخواست آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB)، AIMIM رہنما اسدالدین اویسی اور مختلف وقف اداروں نے دائر کی تھی۔

درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکلا کپل سبل، ابھشیک منو سنگھوی اور ایم۔ آر۔ شمشاد نے دلائل دیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں لاکھوں وقف جائیدادیں موجود ہیں جن میں بڑی تعداد دیہی علاقوں میں ہے، جہاں ریکارڈ پرانا ہے اور بہت سے مقامات پر متولی اب حیات نہیں۔ ان حالات میں موجودہ مدت غیر مناسب ہے۔

سالیسٹر جنرل تشارد میہتا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پورٹل پر اب تک تقریباً چھ لاکھ وقف جائیدادوں کا ریکارڈ اپ لوڈ ہو چکا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ٹیکنیکل رکاوٹیں اتنی بڑی نہیں جتنی پیش کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانون کے تحت ضرورت کی صورت میں متعلقہ فریق وقف ٹریبونل سے اضافی چھ ماہ کی مہلت حاصل کر سکتا ہے۔

جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح پر مشتمل بینچ نے کہا “قانون میں پہلے ہی راستہ موجود ہے۔ آپ اسی راستے پر عمل کریں۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم وقف قانون دوبارہ لکھیں؟ یہ ممکن نہیں۔”

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان