بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمۂ تعلیم نے تمام ضلع مجسٹریٹوں (ڈی ایم) کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مدارس کی موجودہ صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ 10 دن کے اندر فراہم کی جائے۔
محکمۂ تعلیم کے سکریٹری ونود سنگھ گنجیال کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق ریاست کے مختلف اضلاع میں چلنے والے امداد یافتہ مدارس میں تعلیمی نظام، اساتذہ اور ملازمین کی حاضری، طلبہ کے اندراج (نامزدگی) اور بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ چونکہ ان اداروں کو ریاستی حکومت کی جانب سے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، اس لیے ان کی کارکردگی اور تعلیمی معیار کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
حکم کے مطابق ہر بلاک میں تین رکنی جانچ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ کمیٹی کے سربراہ بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر (بی ڈی او) ہوں گے، جبکہ ان کی عدم موجودگی میں سرکل آفیسر (سی او) یہ ذمہ داری نبھائیں گے۔ بلاک ایجوکیشن آفیسر (بی ای او) کمیٹی کے سکریٹری ہوں گے، جبکہ کسی سرکاری ثانوی یا اعلیٰ ثانوی اسکول کے سینئر ہیڈ ماسٹر کو بطور رکن شامل کیا جائے گا۔ کمیٹی کے ارکان کا تقرر متعلقہ ضلع مجسٹریٹ کریں گے۔
جانچ کمیٹی مدارس کا موقع پر جا کر معائنہ کرے گی اور وہاں کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لے گی۔ معائنے کے دوران اساتذہ اور ملازمین کی حاضری، کلاسوں کے انعقاد، طلبہ کی تعداد، عمارت اور دیگر سہولیات کی حالت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
محکمۂ تعلیم نے جانچ کے عمل میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے مدارس کی عمارتوں، احاطے، کلاس رومز اور تعلیمی سرگرمیوں کی تصاویر لینے کی بھی ہدایت دی ہے۔ ان تصاویر کو جانچ رپورٹ کے ساتھ منسلک کرنا لازمی ہوگا۔
محکمہ نے تمام ضلع مجسٹریٹوں کو ہدایت دی ہے کہ جانچ کا عمل مقررہ مدت میں مکمل کرتے ہوئے 10 دن کے اندر رپورٹ محکمۂ تعلیم کو ارسال کی جائے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس رپورٹ کی بنیاد پر حکومت مدارس کے تعلیمی نظام سے متعلق آئندہ ضروری فیصلے کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ بہار میں بڑی تعداد میں غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کام کر رہے ہیں، جہاں اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔