
راجدھانی دہلی کے جنتر منتر پر مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف جاری احتجاج کے دوران ہفتہ کے روز ایک نیا تنازع سامنے آیا۔ تعلیمی ماہر اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی حمایت میں احتجاج کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ دہلی پولیس نے بھوک ہڑتال کے مقام پر وانگچک کو سخت دھوپ سے بچانے کے لیے لگائی گئی ترپال ہٹانے کا حکم دیا۔
پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مظاہرین سے کہا، “ترپال ہٹاؤ اور دکھاؤ دھوپ کہاں آ رہی ہے؟” انہوں نے اس رویے کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے شخص کو دھوپ سے بچانے کے لیے کیا گیا عارضی انتظام بھی پولیس کو گوارا نہیں ہوا۔ تاہم خبر لکھے جانے تک دہلی پولیس کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
*بھوک ہڑتال کا سولہواں دن، صحت پر تشویش میں اضافہ
سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال اب سولہویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ احتجاجی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ہیلتھ بلیٹن کے مطابق ان کا بلڈ پریشر 104/66 ملی میٹر مرکری ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ بھوک ہڑتال شروع ہونے کے بعد سے ان کے وزن میں تقریباً 7.8 کلوگرام کی کمی آ چکی ہے۔
ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل ان کی صحت کی نگرانی کر رہی ہے اور طویل فاقے کے باعث جسمانی کمزوری میں اضافے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
اس سے قبل وانگچک نے اپنے حامیوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں “ہیرو” بنانے کے بجائے لوگ خود آگے بڑھ کر جمہوری اقدار کے تحفظ اور تعلیمی نظام میں اصلاح کے لیے کردار ادا کریں۔
*احتجاج کی وجہ کیا ہے؟
کاکروچ جنتا پارٹی گزشتہ کئی ہفتوں سے جنتر منتر پر مختلف مسابقتی امتحانات میں مبینہ پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور انتظامی ناکامیوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ ان واقعات نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔
احتجاج کرنے والوں کے اہم مطالبات میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ، امتحانی نظام میں جامع اصلاحات، پیپر لیک کے معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، اور بھرتی و داخلہ امتحانات میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا شامل ہے۔
اسی تحریک کی حمایت میں سونم وانگچک نے 28 جون سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تحریک کسی ایک امتحان تک محدود نہیں بلکہ ملک کے تعلیمی نظام کی ساکھ اور نوجوانوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
*سیاسی حمایت میں اضافہ
اس احتجاج کو مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کی حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں سماجوادی پارٹی کے رکنِ پارلیمان پشپیندر سروج اور کیرالہ کی سابق وزیرِ صحت کے کے شیلجا جنتر منتر پہنچے اور سونم وانگچک سمیت دیگر مظاہرین سے ملاقات کی۔
دونوں رہنماؤں نے طلبہ کے خدشات کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے شفاف، جوابدہ اور قابلِ اعتماد امتحانی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔
*20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کا اعلان
کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران 20 جولائی کو جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک ایک پُرامن مارچ نکالا جائے گا۔ تنظیم نے ملک بھر کے طلبہ، والدین، اساتذہ اور شہری تنظیموں سے اس مارچ میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
سونم وانگچک کی مسلسل گرتی ہوئی صحت، ترپال کو لے کر پیدا ہونے والا تنازع اور پارلیمنٹ مارچ کے اعلان کے بعد یہ احتجاج ایک بار پھر قومی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ مرکزی حکومت اور دہلی انتظامیہ احتجاج کرنے والوں کے مطالبات اور عائد کیے گئے الزامات پر کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔