پٹنہ میں پروفیسر ڈاکٹر عبد الوہاب اشرفی کو پُراثر خراجِ عقیدت، ادبی شخصیات نے کہا: “وہ ایک فرد نہیں، بلکہ ایک ادارہ تھے”

اردو تنقید، تحقیق اور ادب کی دنیا کے ممتاز محقق، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے سرفراز پروفیسر ڈاکٹر عبد الوہاب اشرفی کی یاد میں اتوار (5 جولائی) کو پٹنہ کے ہارون نگر، پھلواری شریف واقع “اشرفی ٹھکانہ” میں ایک باوقار تعزیتی و خراجِ عقیدت کی تقریب منعقد کی گئی۔ یہ پروگرام محض ایک تعزیتی اجلاس نہیں تھا بلکہ اردو ادب، گنگا جمنی تہذیب اور علمی روایت سے اجتماعی وابستگی کا ایک تاریخی ثقافتی اجتماع بن گیا۔

تقریب میں بہار کے مختلف اضلاع کے علاوہ جھارکھنڈ سمیت دیگر ریاستوں سے آئے ادباء، اساتذہ، محققین، صحافیوں، سماجی کارکنان اور بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔ پروگرام کا مقام مقررہ وقت سے قبل ہی مکمل طور پر بھر گیا اور متعدد لوگوں نے کھڑے ہو کر پوری نشست سنی۔

تقریب کی صدارت پروفیسر عبدالصمد نے کی۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر عبد الوہاب اشرفی صرف ایک نقاد نہیں تھے بلکہ اردو تنقید کے ایسے مینارِ نور تھے جن کی فکری روشنی آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔

مہمانِ خصوصی پروفیسر اعجاز علی ارشد نے اشرفی کی علمی بصیرت، تحقیقی نظر اور ادبی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں اردو دنیا کا ایک قیمتی سرمایہ قرار دیا۔ سینئر صحافی ایس۔ ایم۔ اشرف فرید نے ان کے ساتھ گزارے ہوئے برسوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ عظیم شخصیات اگرچہ دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، لیکن ان کا کردار، فکر اور تحریریں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔

پروفیسر توقیر عالم نے اردو زبان کو درپیش چیلنجوں اور نئی نسل کو زبان سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جبکہ عبیدالرحمن نے کہا کہ زبانیں صرف اظہار و ابلاغ کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ معاشرے کی ثقافتی شناخت اور تاریخ کی محافظ بھی ہوتی ہیں۔

پروفیسر محسن رضا رضوی نے اشرفی کی تحقیقی خدمات کو اجاگر کیا، جبکہ امتیاز احمد کریمی نے ان کے نام پر انعام اور اسکالرشپ قائم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ نئی نسل ان کے علمی سرمایہ سے تحریک حاصل کر سکے۔

معروف اسلامی عالم مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر عبد الوہاب اشرفی جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، جو اپنے علم، کردار اور فکر سے نسلوں کی رہنمائی کرتی ہیں۔ مولانا شکیل احمد قاسمی نے ان کی سادگی، انکساری اور علم سے وابستگی کو یاد کیا۔

پاٹلی پترا یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ابو بکر رضوی نے کہا کہ اشرفی نے ادب اور تنقید کے میدان میں جو خدمات انجام دیں، وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔ راشٹریہ جنتا دل کے رکنِ قانون ساز کونسل سید فیصل علی نے کہا کہ اشرفی صرف کسی خاندان یا شہر کا سرمایہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ میراث تھے۔

تقریب میں پروفیسر منور جہاں، ڈاکٹر ہمایوں اشرف، ڈاکٹر انور الہدیٰ، پروفیسر ہمایوں اشرف (سدھو کانہو مرمو یونیورسٹی)، ڈاکٹر افسانہ خاتون، ڈاکٹر عبد المالک، ڈاکٹر اشرف النبی قیصر، مرغوب اثر فاطمی، نیاز نظر فاطمی، صابر سہرسوی، معین گریڈیہوی، اثر فریدی، نواب عتیق الزماں، محمد انور ایڈووکیٹ سمیت متعدد ممتاز شخصیات موجود تھیں۔

مرحوم پروفیسر اشرفی کے بڑے صاحبزادے شکیل اشرفی نے اپنے والد کی زندگی، سادگی، طلبہ سے محبت اور ادبی سفر سے وابستہ جذباتی یادیں حاضرین کے ساتھ شیئر کیں، جس سے محفل کا ماحول انتہائی رقت آمیز ہو گیا۔ پروگرام کے اختتام پر اجتماعی دعا کے بعد افروز اشرفی نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

تقریب کی کامیاب نظامت ڈاکٹر افشاں بانو نے انجام دی، جبکہ پروگرام کے انعقاد اور انتظامات میں ڈاکٹر انور الہدیٰ، فہیم احمد اور اشرفی خاندان کے افراد نے اہم کردار ادا کیا۔

*پروفیسر ڈاکٹر عبد الوہاب اشرفی: اردو تنقید کا ایک سنہرا باب

2 جون 1936 کو بہار کے ضلع جہان آباد کے کاکو بلاک کے بی بی پور گاؤں میں پیدا ہونے والے پروفیسر ڈاکٹر عبد الوہاب اشرفی اردو کے ممتاز نقاد، محقق اور استاد تھے۔ ان کی معروف تصنیف “تاریخِ اردو ادب” پر انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ رانچی یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے ہزاروں طلبہ کی رہنمائی کی اور اردو ادب کو نئی فکری سمت عطا کی۔

خراجِ عقیدت کی اس تقریب میں موجود مقررین نے متفقہ طور پر کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر عبد الوہاب اشرفی صرف ایک ادیب نہیں بلکہ ایک فکر، ایک ادارہ اور اردو کی زندہ روایت تھے۔ ان کی کتابوں، ان کے شاگردوں اور ان کے افکار کے ذریعے ان کی خدمات آنے والی نسلوں کو مسلسل تحریک دیتی رہیں گی۔

(رپورٹ: سید آصف امام کاکوی)

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان