6 جون کو دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا احتجاج، وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر جنتر منتر میں طلبہ و نوجوان جمع ہوں گے

سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اب اپنے احتجاجی اور عوامی مہم کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے نکال کر سڑکوں تک لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ تنظیم کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر بڑے پیمانے پر پُرامن احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ مظاہرے کا بنیادی مطالبہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں جوابدہی کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے۔

ابھیجیت دیپکے، جو گزشتہ دو برسوں سے امریکہ میں مقیم ہیں، نے اعلان کیا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آئیں گے اور براہِ راست اس احتجاجی تحریک کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے ملک بھر کے طلبہ، مقابلہ جاتی امتحانات کے امیدواروں، والدین اور نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں دہلی پہنچ کر اس تحریک کا حصہ بنیں۔

ایئرپورٹ سے جنتر منتر تک طاقت کے مظاہرے کی تیاری

تنظیم کی جانب سے جاری پیغامات کے مطابق حامیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ دہلی ایئرپورٹ پر ابھیجیت دیپکے کے استقبال کے لیے موجود رہیں۔ اس کے بعد جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا جائے گا۔ سی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ تحریک کسی ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ تعلیمی نظام میں مسلسل سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور بدانتظامی کے خلاف ہے۔

تنظیم نے حالیہ برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات میں پرچہ لیک ہونے، نتائج سے متعلق تنازعات اور جانچ و تشخیص کی غلطیوں کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا ہے۔ سی جے پی کے مطابق ان واقعات نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔

پریس کانفرنس میں اہم اعلانات کا امکان

مظاہرے سے قبل یا اسی روز متوقع پریس کانفرنس پر بھی سیاسی اور تعلیمی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس پریس کانفرنس میں تنظیم اپنی آئندہ حکمتِ عملی اور تحریک کے اگلے مراحل کا اعلان کر سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق پریس کانفرنس میں وزیرِ تعلیم کے استعفے کا باضابطہ مطالبہ، امتحانی اصلاحات کے لیے قومی سطح کی مہم، طلبہ کے لیے آزاد شکایتی ازالہ نظام کے قیام اور ملک گیر طلبہ و نوجوان نیٹ ورک کی تشکیل جیسے نکات کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ تاہم تنظیم نے ابھی تک پریس کانفرنس کا تفصیلی ایجنڈا جاری نہیں کیا ہے۔

تحریک کو وسیع حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ

سی جے پی کا دعویٰ ہے کہ وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے کے حق میں چلائی گئی آن لائن دستخطی مہم کو لاکھوں طلبہ اور نوجوانوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی تنظیم کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے کروڑوں فالوورز ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

اس تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب تعلیمی اصلاحات کے لیے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی اس کی حمایت کا اظہار کیا۔ ان کی ممکنہ شمولیت کی خبروں نے اس مہم کو قومی سطح پر مزید موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔

حکومت پر دباؤ میں اضافہ

گزشتہ چند مہینوں کے دوران مختلف داخلہ اور بھرتی امتحانات میں پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے الزامات نے تعلیمی نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے بھی ان معاملات پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایسے ماحول میں سی جے پی خود کو طلبہ اور نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر 6 جون کے مظاہرے میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے تو یہ حالیہ برسوں کی نمایاں ترین طلبہ و نوجوان تحریکوں میں شمار ہو سکتا ہے۔

6 جون کے احتجاج پر سب کی نظریں

ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ ان کے اہلِ خانہ اور دوست ان کی بھارت واپسی کو لے کر فکرمند ہیں اور ممکنہ کارروائیوں کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے تحریک کی قیادت کے اپنے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔

اب تمام نظریں 6 جون کو جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور اس سے وابستہ پریس کانفرنس پر مرکوز ہیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ سوشل میڈیا سے جنم لینے والی یہ مہم زمینی سطح پر کس حد تک عوامی حمایت حاصل کر پاتی ہے اور بھارتی طلبہ سیاست میں اپنی کیا جگہ بنا پاتی ہے۔

خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری کو ملی نئی قیادت، اردو ادب کے ممتاز محقق پروفیسر زاہد الحق ڈائریکٹر مقرر

ممتاز اردو اسکالر، شاعر اور نقاد پروفیسر زاہد الحق نے آج تاریخی اور قومی اہمیت