پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے مبینہ دہشت گردی سازش مقدمہ: دہلی کی خصوصی عدالت نے ۲۰ ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا، دفاع نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا

کالعدم تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے متعلق مبینہ دہشت گردی سازش کے مقدمے میں دہلی کی خصوصی قومی تحقیقاتی ایجنسی عدالت نے تنظیم اور اس کے ۲۰ عہدیداروں و ارکان کے خلاف مختلف سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ پر موجود ابتدائی شواہد اور مواد کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے بادی النظر میں کافی بنیاد موجود ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ فردِ جرم عائد کیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ الزامات ثابت ہو گئے ہیں، بلکہ اس مرحلے پر صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا مقدمہ چلانے کے لیے کافی ابتدائی مواد موجود ہے۔ اب اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت ہوگی، جس میں قومی تحقیقاتی ایجنسی اپنے شواہد پیش کرے گی اور دفاع کو ان کا جواب دینے اور جرح کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔

*عدالت نے کیا کہا؟

خصوصی عدالت کے جج نے اپنے حکم میں کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد سے بادی النظر میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بعض ملزمان حکومتِ ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کی مبینہ سازش، ملک کی خودمختاری اور سالمیت کو نقصان پہنچانے اور ہندوستان میں اسلامی نظامِ حکومت قائم کرنے کے مبینہ منصوبے سے متعلق مجرمانہ سازش کا حصہ تھے۔

عدالت کے مطابق استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے گواہوں کے بیانات، دستاویزات، برقی شواہد اور دیگر مواد فردِ جرم عائد کرنے کے لیے کافی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس مرحلے پر شواہد کی حتمی سچائی یا قابلِ اعتماد ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ ان کا تفصیلی جائزہ مقدمے کی سماعت، گواہوں پر جرح، دستاویزات کی جانچ اور دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ہی ہوگا۔ اس لیے فردِ جرم عائد ہونا ہرگز جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔

*کن دفعات کے تحت مقدمہ چلے گا؟

عدالت نے ملزمان کے خلاف حکومتِ ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کی مبینہ سازش، مجرمانہ سازش، فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کی مختلف دفعات کے تحت فردِ جرم عائد کی ہے۔

ان الزامات میں مبینہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کی سازش، ایسی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل جمع کرنا، افراد کی بھرتی کرنا، تربیت دینا اور تنظیمی سرگرمیوں کا انتظام کرنا شامل ہے۔

*قومی تحقیقاتی ایجنسی کا الزام کیا ہے؟

قومی تحقیقاتی ایجنسی کا الزام ہے کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی اعلیٰ قیادت نے ملک بھر میں ایک منظم جال قائم کیا، جس کے ذریعے نوجوانوں کی بھرتی، نظریاتی تربیت اور مالی وسائل جمع کیے جاتے تھے۔

ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ مختلف ریاستوں میں تربیتی کیمپ منعقد کیے گئے، جہاں جسمانی تربیت کے ساتھ مبینہ طور پر ہتھیاروں کے استعمال کی بھی تربیت دی جاتی تھی۔

ایجنسی کے مطابق تحقیقات کے دوران ضبط شدہ دستاویزات، برقی ریکارڈ، برقی آلات اور گواہوں کے بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تنظیم کا مقصد ایک طویل مدتی حکمت عملی کے تحت حکومتِ ہند کے خلاف سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا۔ ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ تنظیم کی اعلیٰ قیادت ان سرگرمیوں کی نگرانی کرتی تھی اور مختلف ریاستوں میں تنظیم کے دائرۂ کار کو وسعت دینے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔

البتہ ان الزامات کی حقیقت کا حتمی فیصلہ مکمل عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔

*کن رہنماؤں پر فردِ جرم عائد ہوئی؟

اس مقدمے میں جن اہم ملزمان کے خلاف مقدمہ چلے گا، ان میں تنظیم کے بانی صدر ای۔ ابوبکر، اس وقت کے قومی صدر او۔ ایم۔ اے۔ سلام، جنرل سکریٹری انیس احمد سمیت کئی سینئر عہدیدار شامل ہیں۔

عدالت نے کالعدم تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا کو بھی اس مقدمے میں بطور ملزم شامل رکھتے ہوئے اس کے خلاف بھی مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

دفاع کا مؤقف کیا ہے؟

ملزمان کی جانب سے سینئر وکیل ایس۔ بالن سمیت دیگر وکلا نے قومی تحقیقاتی ایجنسی کے الزامات کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا ایک سماجی اور عوامی فلاحی تنظیم تھی، جو تعلیم، سماجی بیداری، انسانی حقوق اور محروم طبقات کے مسائل پر کام کرتی تھی۔

دفاع کا کہنا تھا کہ کسی تنظیم کے نظریاتی یا سیاسی اختلاف کو دہشت گردانہ سرگرمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید استدلال کیا کہ جن تربیتی پروگراموں کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ خود حفاظتی اور جسمانی تربیت سے متعلق تھے، نہ کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں سے۔

دفاع کے مطابق استغاثہ کسی بھی ملزم کی جانب سے حکومتِ ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے یا کسی پرتشدد کارروائی میں براہِ راست ملوث ہونے کا کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

سینئر وکیل ایس۔ بالن نے یہ بھی کہا کہ فردِ جرم عائد ہونے کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں ہے۔ ان کے مطابق مقدمے کے دوران گواہوں پر جرح اور شواہد کی تفصیلی جانچ کے بعد ہی حقیقت سامنے آئے گی۔

*پاپولر فرنٹ آف انڈیا کا پہلے سے کیا مؤقف رہا ہے؟

پاپولر فرنٹ آف انڈیا مسلسل اپنے اوپر لگائے گئے دہشت گردی، انتہاپسندی اور حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

تنظیم کا کہنا رہا ہے کہ اس کے خلاف کارروائیاں سیاسی محرکات پر مبنی ہیں اور اقلیتوں اور محروم طبقات کے مسائل اٹھانے کی وجہ سے اسے نشانہ بنایا گیا۔

تنظیم نے سال ۲۰۲۲ میں مرکزی حکومت کی جانب سے عائد پابندی کو بھی مختلف عدالتی فورمز پر چیلنج کر رکھا ہے۔

*اب آگے کیا ہوگا؟

فردِ جرم عائد ہونے کے بعد اب خصوصی عدالت میں مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہوگی۔

استغاثہ اپنے گواہان، دستاویزات اور برقی شواہد عدالت کے سامنے پیش کرے گا، جس کے بعد دفاع کو جرح کرنے اور اپنے حق میں شواہد پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

مقدمے کے اختتام پر عدالت دونوں فریقوں کے دلائل اور پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اپنا حتمی فیصلہ سنائے گی۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ