
1857 کی پہلی جنگِ آزادی کے عظیم مجاہد اور بہار کے اولین شہداء میں شامل وارث علی کو مناسب اعزاز دلانے کا مطالبہ اب قومی راجدھانی تک پہنچ گیا ہے۔ انجمن ندائے ادب، مظفرپور کے ایک وفد نے نئی دہلی میں مرکزی وزیرِ مملکت برائے جل شکتی اور مظفرپور کے رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر راج بھوشن چودھری “نشاد” سے ملاقات کی اور شہید وارث علی سے متعلق مختلف مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت پیش کی۔
وفد نے رکنِ پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ مظفرپور میونسپل کارپوریشن کی منظور شدہ تجویز کے مطابق مال گودام چوک سے مظفرپور اسٹیشن روڈ ہوتے ہوئے موتی جھیل تک جانے والی سڑک کا نام “شہید وارث علی روڈ” رکھا جائے۔ اس کے ساتھ ہی شہید وارث علی کے زیرِ التوا یادگار تعمیراتی منصوبے کو جلد شروع کرنے اور ہر سال 6 جولائی کو ان کے یومِ شہادت پر سرکاری سطح پر خراجِ عقیدت کا پروگرام منعقد کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وفد نے بتایا کہ 1857 کی جنگِ آزادی میں وارث علی نے انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے ملک کے لیے اپنی جان قربان کر دی تھی، لیکن طویل عرصے تک ان کی قربانی کو قومی سطح پر مناسب شناخت نہیں مل سکی۔ مسلسل کوششوں کے بعد حکومتِ ہند کی وزارتِ ثقافت کی جانب سے سال 2019 میں شائع کی گئی “ڈکشنری آف مارٹرس” میں ان کا نام شامل کیا گیا، جس کے بعد انہیں باضابطہ طور پر آزادی کی جدوجہد کے مجاہد کا درجہ حاصل ہوا۔
یادداشت پیش کرنے والے وفد نے کہا کہ شہید وارث علی کی قربانی بہار کی شاندار تحریکِ آزادی کا ایک اہم باب ہے۔ ان کی یاد کو محفوظ کرنا آنے والی نسلوں کو آزادی کی جدوجہد کی تاریخ سے جوڑنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہوگا۔
ڈاکٹر راج بھوشن چودھری نے وفد کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ متعلقہ محکموں سے بات چیت کرکے ان مطالبات کی تکمیل کی سمت میں کوشش کریں گے۔
وفد میں انجمن ندائے ادب، مظفرپور کے اسلم رحمانی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر انتخاب عالم، عبد الوارث اور دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر امام الدین امام شامل تھے۔