تمل ناڈو: ایم کے اسٹالن نے بدلا انتخابی حساب، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کو ساتھ لے آئے؛ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ جانے پر آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کژگم اتحاد کو ایس.ڈی.پی.آئی نے چھوڑ دیا تھا

دروڈ منیترا کژگم کی سیاست میں اسمبلی انتخابات سے قبل ایک اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ برسرِ اقتدار جماعت نے اپنے اتحاد کو وسعت دیتے ہوئے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کو باضابطہ طور پر شامل کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ پارٹی کو نشستوں کی تقسیم سے متعلق مذاکرات کے لیے مدعو کیا گیا ہے اور اسے ۲ سے ۵ اسمبلی نشستیں دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سیاسی ذرائع کے مطابق چنئی میں واقع انا اریوالیم میں دروڈ منیترا کژگم کی قیادت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان جاری بات چیت میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی شمولیت تقریباً طے مانی جا رہی ہے۔ اگر نشستوں پر اتفاق ہو جاتا ہے تو یہ اس جماعت کی اب تک کی سب سے اہم انتخابی شراکت ہوگی۔

قابلِ ذکر ہے کہ ۲۰۲۴ کے پارلیمانی انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے آل انڈیا انا دروڈ منیترا کژگم کے اتحاد کے ساتھ دِندیگل نشست سے انتخاب لڑا تھا، تاہم اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ بعد ازاں آل انڈیا انا دروڈ منیترا کژگم نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کر لیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی فعال موجودگی والے اتحاد میں برقرار رہنے کے بجائے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے الگ راستہ اختیار کرتے ہوئے اس اتحاد سے دوری بنا لی۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ بڑھتی قربت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے نظریاتی مؤقف سے ہم آہنگ نہیں تھی، جس کے باعث اس نے نیا سیاسی متبادل تلاش کیا۔

دروڈ منیترا کژگم کے صدر اور وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن پہلے ہی وسیع سماجی توازن قائم کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت والے اتحاد میں انڈین نیشنل کانگریس، ودوتھلائی چروتھائیگل کچّی، مرو ملارچی دروڈ منیترا کژگم، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، انڈین یونین مسلم لیگ اور مکّل نیدھی میئم جیسی جماعتیں پہلے سے شامل ہیں۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی ممکنہ شمولیت سے بعض حلقوں میں اتحاد کو اضافی حمایت ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت نے چند مخصوص علاقوں کی نشستوں پر دعویٰ پیش کیا ہے۔ ابتدائی مذاکرات میں ۲ سے ۵ نشستیں دینے پر اتفاق ہو سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ سرکاری اعلان کے بعد ہی واضح ہوگا۔

انتخابی اعلامیہ سے قبل اتحاد کی مکمل تصویر سامنے آنے کا امکان ہے۔ فی الحال اسٹالن کی اس حکمت عملی کو انتخابی حساب کتاب بدل دینے والی اہم چال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان