شاہجہاںپور، اتر پردیش میں ‘جوتا مار ہولی’ کی تیاریاں مکمل، 48 مساجد و مزارات کو ترپال سے ڈھانپا گیا، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

شاہجہانپور،اترپردیش میں صدیوں پرانی ہولی کی روایت ‘جوتا مار ہولی’ کو اس سال بھی محفوظ اور پرامن انداز میں منانے کے لیے انتظامیہ نے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔ جُولُوس کے راستے پر آنے والی 48 مساجد اور مزارات کو موٹے تِرپال سے ڈھانپ دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ راجیش دویدی نے بتایا کہ اس سال سیکورٹی کے انتظامات پچھلے سال کے مقابلے میں ڈیڑھ گنا زیادہ سخت ہیں۔ شہر میں چار اضافی پولیس سپرنٹنڈنٹ، 13 سرکل آفیسر، 310 انسپکٹر، 1,200 کانسٹیبل اور 500 ہوم گارڈز تعینات رہیں گے۔ علاوہ ازیں، PAC اور RAF کی چار چار کمپنیاں اور NDRF کی ٹیم بھی جُولُوس کے راستے پر سرگرم رہیں گی۔

جولوس کا راستہ تقریباً آٹھ کلومیٹر طویل ہے اور اسے 7 زون میں تقسیم کر کے 136 مجسٹریٹس تعینات کیے گئے ہیں۔ سیکورٹی بڑھانے کے لیے 100 سے زائد سولر CCTV کیمروں کا نصب کیا گیا ہے، اور 148 راستوں کو بیریکیڈز سے بند کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے پہلے سے شناخت شدہ شرارتی عناصر کے خلاف روک تھام کی کارروائی بھی کی ہے۔

‘جوتا مار ہولی’ میں ایک شخص کو برٹش دور کے افسر ‘لاٹ صاحب’ کے طور پر بھینس کی گاڑی پر بٹھایا جاتا ہے، اور لوگ اس پر جوتے، چپل پھینکتے ہیں، رنگ کھیلتے ہیں اور نعرے لگاتے ہیں۔ یہ روایت 1728 سے شروع ہوئی جب نواب عبداللہ خان ہولی کے دن شاہجہانپور واپس آئے اور ہندو و مسلم دونوں کمیونٹیز نے مل کر جشن منایا۔

ماہر تاریخ ڈاکٹر وکاس خورانہ نے میڈیا کو بتایا کہ بعد میں برٹش انتظامیہ نے اسے رسمی شکل دی اور 1988 میں اس کا نام بدل کر ‘لاٹ صاحب’ رکھا گیا۔ 1990 میں ہائی کورٹ میں اس پر پابندی کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی، اور اسے ایک مستحکم اور ثقافتی طور پر اہم روایت کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

پولیس نے شہریوں سے پرامن ہولی منانے کی اپیل کی ہے۔ ایس پی دویدی نے کہا کہ کسی بھی قسم کی بدانتظامی برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

انتظامیہ اور پولیس کی سخت نگرانی، مجسٹریٹس کی تعیناتی اور جدید CCTV نظام کے ذریعے شاہجہانپور کی یہ منفرد ہولی روایت اس سال بھی امن و جوش کے ساتھ مکمل ہونے کی توقع ہے۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان