سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے قومی جنرل سکریٹری محمد الیاس تھمبے نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی سخت تنقید کی ہے۔ ان ہدایات میں ریاستوں کو یہ کہا گیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کی نگرانی کریں اور ان کے خلاف کارروائی کریں۔
تھمبے نے اس اقدام کو جمہوریت میں اختلاف رائے کو دبانے اور خوفزدہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “ایک جمہوریت میں شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں اور غیر منصفانہ جنگوں پر سوال اٹھائیں، وہ بھی بغیر کسی نگرانی یا بدلہ لینے کے خوف کے۔ مرکزی حکومت کی یہ ہدایات خوف کا ماحول پیدا کرتی ہیں اور اظہار رائے کی آئینی ضمانت کو کمزور کرتی ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے لوگ وزیر اعظم نریندر مودی یا بی جے پی کی نظریاتی وابستگی کو اختیار کرنے کے لیے مجبور نہیں ہیں۔ ملک کی خارجہ پالیسی کو کسی جماعتی ترجیح یا حکمت عملی کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے ملکی ثقافتی اقدار، امن کے تئیں عزم اور قومی خودمختاری کے احترام کی عکاسی کرنی چاہیے۔
تھمبے نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر مودی حکومت کی خاموشی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جب دنیا کے کئی رہنما اور حکومتیں اس سنگین واقعے پر واضح موقف اختیار کر چکی ہیں، تو ہندوستان کی حکومت کا واضح اور اصولی ردعمل دینے سے انکار کرنا اخلاقی ذمہ داری سے گریز کے مترادف ہے۔
تھمبے نے مزید بتایا کہ کئی ممالک نے اس ہدف شدہ قتل اور اس کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ کی کھل کر مذمت کی ہے۔ اسپین نے تو علاقے میں مزید امریکی عسکری کارروائی کے لیے اپنے اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔