دہلی کے اتم نگر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کا اظہارِ تشویش، ڈی.ایس بندرا نے غیر جانبدارانہ کارروائی کا مطالبہ کیا

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے قومی سکریٹری سردار ڈی ایس بندرا نے دہلی کے اتم نگر علاقے میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے امن و امان اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ سے فوری، سخت اور غیر جانبدار کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈی ایس بندرا نے اپنے بیان میں کہا کہ اتم نگر میں نفرت اور انتقامی جذبات کا بڑھنا نہایت افسوسناک ہے، جو سماج میں خطرناک تقسیم پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت اور دہلی حکومت کی اس سنگین مسئلے پر خاموشی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سماج دشمن اور فرقہ وارانہ عناصر کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ فرقہ وارانہ گروہوں نے ہولی کے دوران پیش آنے والے ایک ناخوشگوار واقعہ کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں مختلف برادریوں کے درمیان خوف، عدم تحفظ اور دشمنی کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ بندرا نے واضح کیا کہ یہ واقعہ مبینہ طور پر دو خاندانوں کے درمیان ذاتی تنازع کا نتیجہ تھا، نہ کہ کسی فرقہ وارانہ وجہ سے جڑا ہوا۔

ایس ڈی پی آئی لیڈر نے خبردار کیا کہ کچھ عناصر بغیر کسی خوف کے کھلے عام نفرت انگیز تقاریر کر رہے ہیں، تشدد کو ہوا دے رہے ہیں اور خونریزی کی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں معاشرے کو شدید بحران اور بدامنی کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔

آخر میں ڈی ایس بندرا نے تمام برادریوں سے اپیل کی کہ وہ سماجی ہم آہنگی، باہمی احترام اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے کے لیے متحد ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ امن و اتحاد کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف سخت اور غیر جانبدار کارروائی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ قانون و نظم برقرار رہ سکے۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان