پورنیہ میں ایس.ڈی.پی.آئی بہار کا اہم اجلاس: لوک سبھا اور پنچایت انتخابات کے لیے حکمت عملی تیز، عبدالسلام بنے بہار کے انچارج

بہار میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی اسٹیت ورکنگ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پُرنیا میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت پارٹی کے نیشنل جنرل سکریٹری محمد ایلیاس ٹومبی نے کی۔

اجلاس میں آئندہ لوک سبھا انتخابات اور پنچایت انتخابات کی تیاریوں، تنظیم کو بوتھ سطح تک مضبوط بنانے، اور کارکنان کی فعال شرکت کو یقینی بنانے جیسے اہم امور پر گہری بات چیت ہوئی۔ پارٹی قیادت نے کہا کہ آنے والے انتخابات میں بہتر کارکردگی کے لیے زمینی سطح پر تنظیم کی مضبوطی انتہائی ضروری ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ نیشنل ایگزیکٹو نے اہم تنظیمی فیصلے کرتے ہوئے عبدالسلام کو بہار کا نیا انچارج مقرر کیا ہے۔ نیشنل جنرل سکریٹری محمد ایلیاس ٹومبی نے انہیں باضابطہ ذمہ داری سونپی۔ اجلاس میں موجود تمام اراکین نے ان کا استقبال کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تنظیم کو نئی سمت ملے گی۔

اجلاس کا آغاز صوبائی جنرل سکریٹری مُجمل حسن مجہری کے استقبالیہ کلمات سے ہوا، جبکہ افتتاحی تقریر صوبائی صدر ڈاکٹر آفتاب عالم نے پیش کی۔

اپنے خطاب میں محمد ایلیاس ٹومبی نے کہا کہ ایس.ڈی.پی.آئی سماج کے کمزور، محروم اور پسماندہ طبقات کی آواز بن کر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ مکمل دیانتداری اور لگن کے ساتھ عوام کے درمیان جائیں، ان کے مسائل کو سمجھیں اور ان کے حل کے لیے جدوجہد کریں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی مضبوطی کارکنان کی محنت اور اتحاد پر منحصر ہے۔

اجلاس میں صوبائی جنرل سکریٹری منجر عالم، محمد سہراب اور محمد طارق سمیت کئی سینئر رہنما اور کارکنان موجود تھے۔

اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ تنظیم کو مزید مضبوط بنایا جائے اور آنے والے انتخابات میں مؤثر کارکردگی دکھائی جائے۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان