آر.ایس.ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا بیان: تنظیم کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، صرف بی جے پی کے نقطہ نظر سے دیکھنا بڑی غلطی

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر.ایس.ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے اتوار کو واضح کیا کہ تنظیم کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے اور اسے صرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نقطہ نظر سے دیکھنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔ صد سالہ تقریب کے تحت منعقدہ آر.ایس.ایس کی 100 لیکچر سیریز کے پروگرام میں بھاگوت نے کہا کہ سنگھ کو سیاسی جماعت یا محض ایک عام سماجی تنظیم کے طور پر سمجھنا درست نہیں ہے۔

بھاگوت نے بتایا کہ سنگھ کا بنیادی مقصد ہندو سماج کی بھلائی اور حفاظت کے لیے کام کرنا ہے۔ سنگھ کی کوشش ایسے اخلاقی اور باکردار شخصیات (سجّان) تیار کرنے کی ہے جو قومی فخر کو بڑھائیں اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ کی بڑھوتری سے کچھ افراد کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن تنظیم کسی کو اپنا دشمن نہیں مانتی۔

بھاگوت نے کہا، “سنگھ کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔ کئی لوگ نام تو جانتے ہیں لیکن اس کے کام کو نہیں سمجھتے۔ آر.ایس.ایس صرف ہندو سماج کی بھلائی کے بارے میں سوچتی ہے اور اس میں کسی کے خلاف دشمنی نہیں ہے۔” انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ سیاست کو بلاوجہ سنگھ سے جوڑنا غلط ہے اور اسے صرف بی جے پی کے نقطہ نظر سے دیکھنا مناسب نہیں ہے۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان