ملک گیر ہڑتال کی حمایت میں پٹنہ میں احتجاج، دیپانکر بولے: “چار لیبر کوڈ واپس لینے ہوں گے”

مرکزی ٹریڈ یونینوں کی اپیل پر منعقدہ ملک گیر عام ہڑتال کی حمایت میں جمعرات کو راجدھانی پٹنہ میں بائیں بازو اور مزدور تنظیموں نے جلوس نکال کر احتجاج کیا۔ سی پی آئی (ایم ایل) کے جنرل سکریٹری کامریڈ دیپانکر بھٹاچاریہ سمیت پارٹی کے کئی سینئر قائدین اس میں شریک ہوئے۔

بدھ اسمرتی پارک سے نکلا جلوس شہر کے مختلف راستوں سے ہوتا ہوا ڈاک بنگلہ چوک پہنچا، جہاں جلسے کی شکل اختیار کر گیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا کہ چاروں لیبر کوڈ مزدوروں کے حقوق کو کمزور کرتے ہیں اور سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کسانوں کی تحریک کے بعد تین زرعی قوانین واپس لینے پڑے، اسی طرح مزدوروں کی جدوجہد سے لیبر کوڈ بھی واپس لینے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس ہڑتال کو کھیت مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور نوجوانوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے، جو حکومتی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی کو ظاہر کرتی ہے۔ منریگا کے مسئلے پر انہوں نے 200 دن روزگار اور کم از کم 600 روپے یومیہ اجرت یقینی بنانے کا مطالبہ دہرایا۔ ان کا الزام تھا کہ موجودہ پالیسیوں کے سبب دیہی بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

زرعی شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت کثیر القومی کمپنیوں کے مفاد میں پالیسیاں بنا رہی ہے، جس کے اثرات کسانوں اور دیہی آبادی پر پڑیں گے۔ نئی تعلیمی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے تعلیم کی نجکاری اور وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

جلوس کی قیادت ایکٹو، کھیگرامس، آل انڈیا کسان مہاسبھا، رسوئیا سنگھ، آفتا متر اور دیگر تنظیموں کے نمائندوں نے کی۔ پروگرام میں سی پی آئی (ایم ایل) کے ریاستی سکریٹری کنال سمیت متعدد قائدین اور کارکنان موجود تھے۔

جلسے سے سروج چوبے، روشن کمار اور شیوساگر شرما سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ اس سے قبل صبح آٹو ڈرائیور یونین کی قیادت میں اسٹیشن روڈ سے بھی ایک جلوس نکالا گیا، جو مرکزی پروگرام میں شامل ہوا۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان