پسماندہ مسلم محاذ نے نئی بہار حکومت سے معاشرتی مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کر دیا

آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ، بہار کی اہم اجلاس پھلواری شریف میں محاذ کے دفتر میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں ضلع اور صوبائی سطح کے درجنوں اہم عہدہ داران نے شرکت کی۔

اجلاس کا آغاز نئی بننے والی بہار حکومت کو مبارکباد پیش کرنے کے تجویز سے ہوا۔ شرکاء نے کہا کہ پسمنہ معاشرہ نے نتیش کمار کی قیادت میں حکومت کے قیام میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے اور اب توقع ہے کہ حکومت معاشرتی مسائل اور ضرورتوں پر ترجیحی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کرے گی۔

اجلاس میں اہم مطالبات میں تعلیم، صحت، روزگار، رہائش اور سماجی تحفظ پر مؤثر پالیسیوں کی ضرورت اور انتظامی و سیاسی نمائندگی میں بامعنی شرکت کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

ضلعوں میں کارکنان کی فعال شرکت اور جوابدہی بڑھانے، رکنیت مہم کو وسیع کرنے اور کام کے طریقہ کار کو شفاف، منظم اور مستقل بنانے کے فیصلے بھی اجلاس میں کیے گئے۔

اجلاس کے اختتام پر عہدہ داران نے کہا کہ محاذ پسماندہ معاشرہ کی آواز کو ریاست سے لے کر قومی سطح تک مؤثر انداز میں بلند کرتا رہے گا۔

اجلاس میں ڈاکٹر نسیم انور – ایگزیکٹو صوبائی صدر، توقیر احمد – صوبائی جنرل۔سکریٹری، محمد شمیم اختر – صوبائی جنرل سکریٹری، ڈاکٹر فیروز انصاری – ضلع صدر گیا، محمد نجم الحسن، محمد اقبا، قیاس الدین، محمد مصطفی منصوری – صوبائی سکریٹری، محمد شمشاد انصاری – صوبائی جنرل سکریٹری، شمس الحق انصاری – ضلع صدر سیوان، محمد ناصر احمد، محمد سرورالدین – سیتامڑھی، محمد شاداب – سیتامڑھی شامل ہوئے

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان