پپّو یادو کی گرفتاری: کانگریس کے راہل گاندھی و پرینکا گاندھی اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے محمد شفیع نے شدید تنقید کی، سیاسی انتقام کے الزامات عائد کیے

بہار کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ آزاد رکن پارلیمنٹ راجیش رنجن المعروف پپّو یادو کو 31 سال پرانے 1995 کے جعلسازی کے معاملے میں 6 فروری کی نصف شب ان کے منڈیری رہائش سے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی عدالت کے حکم اور قانونی طریقہ کار کے تحت عمل میں لائی گئی۔ گرفتاری کے بعد سیاسی اور سماجی ردعمل تیز ہو گئے ہیں۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے قومی عبوری صدر محمد شفیع نے اس گرفتاری کو “سیاسی طور پر تحریک یافتہ اور بدنیتی پر مبنی” قرار دیا۔

محمد شفیع نے کہا کہ پپّو یادو کی گرفتاری کا اصل مقصد ان آوازوں کو دبانا ہے جو نظام کی خامیوں اور خواتین کی حفاظت پر سوال اٹھاتی ہیں۔ انہوں نے فوری رہائی، گرفتاری کی آزادانہ تحقیقات اور سیاسی انتقام کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے گرفتاری کو “سیاسی انتقام” بتایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی پپّو یادو جیسے بے باک رہنماؤں کو خاموش کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا “جب انصاف کا مطالبہ کیا جاتا ہے، پرانی فائلیں اچانک زندہ کر دی جاتی ہیں۔ پپّو یادو کی گرفتاری نیشنل ایلیجبیلٹی انٹرنس ٹیسٹ کی طالبہ کی مشکوک موت اور حفاظتی مطالبات پر خاموش کرانے کی کوشش ہے۔”

کانگریس کی رہنما پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی گرفتاری کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی حکومتی تحفظ کے لیے کی جا رہی ہے اور انصاف کے طلبگاروں کو ڈرانے کی کوشش ہے۔

پپّو یادو نے حال ہی میں نیشنل ایلیجبیلٹی انٹرنس ٹیسٹ کی طالبہ کی مشکوک موت اور پٹنہ کے ہاسٹل میں حفاظتی خامیوں پر سوال اٹھائے تھے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ گرفتاری کا وقت اسی بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ کارروائی سیاسی انتقام ہے۔

پولیس نے کہا کہ گرفتاری عدالت کے حکم اور قانونی عمل کے تحت کی گئی، لیکن حزب اختلاف اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا اسے سیاسی دباؤ اور انتقام کی مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

پپّو یادو کی گرفتاری نے بہار میں سیاسی کشیدگی اور احتجاجی مظاہروں کو تیز کر دیا ہے۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا سب اسے جمہوری حقوق کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔ ریاست کی سیاست کی نظریں آئندہ عدالت کی سماعت اور سیاسی ردعمل پر مرکوز ہیں۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان