کشن گنج میں ایم.آئی.ایم کے قومی صدر اسد الدین اویسی نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مہاگٹھ بندھن میں شامل ہونے کے لیے صرف 6 نشستیں چاہتے ہیں۔ انہوں نے راجد کو الٹی میٹم بھی دیا ہے

انصاف ٹائمس ڈیسک

آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین (AIMIM) کے قومی صدر اسدالدین اویسی نے 2025 کے بہار اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر مہاگٹھ بندھن میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے راشٹریہ جنتا دل (RJD) سے اتحاد کے لیے صرف 6 نشستوں کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اب فیصلہ تیجسوی یادو پر منحصر ہے۔

کشن گنج میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اویسی نے کہا، “ہم نے مہاگٹھ بندھن میں شامل ہونے کے لیے صرف 6 نشستوں کا مطالبہ کیا ہے۔ ہماری پارٹی کے بہار صدر اخترالایمان نے تیجسوی یادو کو خط لکھا ہے، مگر ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔”

اویسی نے الزام لگایا کہ اگر AIMIM کو اتحاد میں شامل نہیں کیا گیا تو یہ بالواسطہ طور پر بی جے پی کی حمایت کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا “بہار کی عوام دیکھے گی کہ کون بی جے پی کو کامیاب کروانا چاہتا ہے اور کون اسے روکنا چاہتا ہے۔”

سیمانچل علاقے میں AIMIM کی موجودگی مضبوط ہے۔ 2020 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، تاہم بعد میں چار ارکان اسمبلی RJD میں شامل ہو گئے تھے۔ اویسی کی ‘سیمانچل انصاف یاترا’ اس علاقے کے ترقی اور حقوق کے لیے منعقد کی گئی ہے۔

اویسی نے یہ بھی کہا کہ AIMIM کا مقصد مہاگٹھ بندھن میں وزارتیں حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ برابری اور ترقی کی بات کرنا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ RJD کی طرف سے اتحاد میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ RJD اس پیشکش پر کیا ردعمل دیتی ہے اور آیا AIMIM مہاگٹھ بندھن میں شامل ہو پائے گی۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ