مولانا توقیر رضا کی گرفتاری پر ملک گیر ناراضگی : مسلم پرسنل لا بورڈ اور امارتِ شرعیہ نے فوری رہائی کا مطالبہ

انصاف ٹائمس ڈیسک

اتر پردیش میں مولانا توقیر رضا خان اور ان کے حامیوں کی گرفتاری کے خلاف اب قومی سطح پر آوازیں تیز ہو گئی ہیں۔ پیر کے روز آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور امارتِ شرعیہ، بہار-اڑیسہ-جھارکھنڈ نے الگ الگ پریس بیانات میں یوپی حکومت کی کارروائی کی مذمت کی اور تمام گرفتار افراد کی فوری اور بغیر کسی شرط رہائی کا مطالبہ کیا۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ “کانپور کے واقعہ کو بنیاد بنا کر مولانا توقیر رضا اور درجنوں پُرامن مظاہرین کو گرفتار کرنا غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل ہے۔ ‘آئی لو محمد’ نعرہ یا بینر لگانا کوئی جرم نہیں، بلکہ یہ مذہبی عقیدت اور دستوری حق کا حصہ ہے۔” انہوں نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بیانات کو “دھمکی آمیز اور تکبرانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “وزیراعلیٰ کو پورے صوبے کا نمائندہ ہونا چاہئے، نہ کہ کسی خاص طبقے کے جذبات کو بھڑکانے والا۔”

ادھر امارتِ شرعیہ کے امیر شریعت، مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے پٹنہ سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ “ہندوستان ایک سیکولر جمہوری ملک ہے جہاں ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ مسلمانوں کے لئے پیغمبر محمد ﷺ سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ اس عقیدت کے تحت پُرامن احتجاج کرنا کسی طور جرم نہیں ہو سکتا۔ یوپی حکومت کی یہ کارروائی مذہبی آزادی پر سیدھا حملہ ہے۔”

انہوں نے کہا کہ مولانا توقیر رضا اور بے قصور مظاہرین کی گرفتاری ملک کی گنگا-جمنی تہذیب پر داغ ہے۔ انہوں نے یوپی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام گرفتار شدگان کو باعزت رہا کرے اور نفرت کی سیاست سے اجتناب کرے۔

دونوں تنظیموں نے واضح کہا کہ جمہوریت میں احتجاج اور مخالفت بنیادی حق ہے، اور اسے کچلنے کی ہر کوشش ملک و معاشرے کے لئے خطرناک ثابت ہوگی۔

دربھنگہ کے دانی میں گونجا پیامِ سیرت، 600 طلبہ نے اسلامی کوئز میں دکھایا اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ

دانی، دربھنگہ۔ نئی نسل کو دینی تعلیم، اخلاقی اقدار اور پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ

گاندھی۔امبیڈکر کے نظریات کے ساتھ علی گڑھ سے سہارنپور تک مکالمہ یاترا، اقلیتی حقوق سمیت کئی مسائل پر عوامی رائے ہموار کی جائے گی

ہندوستانی جمہوریت میں اقلیتوں کی سیاسی شمولیت، تحفظ اور نمائندگی کے حوالے سے کانگریس کے

بہار کانگریس بچاؤ مہم: سیکڑوں کانگریس کارکنوں کا دہلی میں احتجاج، قیادت میں تبدیلی سمیت چھ مطالبات پیش

بہار کانگریس کی موجودہ صورتحال سے ناراض سابق ارکانِ اسمبلی، سابق ضلعی صدور، سابق ریاستی