گاندھی۔امبیڈکر کے نظریات کے ساتھ علی گڑھ سے سہارنپور تک مکالمہ یاترا، اقلیتی حقوق سمیت کئی مسائل پر عوامی رائے ہموار کی جائے گی

ہندوستانی جمہوریت میں اقلیتوں کی سیاسی شمولیت، تحفظ اور نمائندگی کے حوالے سے کانگریس کے قومی سکریٹری شاہنواز عالم نے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ کابینہ میں اقلیتی طبقات کو ریزرویشن دینے سے متعلق ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی کوشش کو آئینی ترمیم کے ذریعے نافذ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے دلت ایکٹ کی طرز پر ایک سخت قانون بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

شاہنواز عالم نے یہ باتیں ہفتہ وار ’اسپیک اَپ‘ پروگرام کی 263ویں قسط میں کہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’ہم بھارت کے لوگ‘ بینر کے تحت 9 سے 16 ستمبر تک ’گاندھی۔امبیڈکر مکالمہ یاترا‘ نکالی جائے گی۔ یاترا کے پہلے مرحلے کا آغاز علی گڑھ سے ہوگا اور یہ سہارنپور تک جائے گی۔

عالم کے مطابق، یاترا کا مقصد گاندھی اور امبیڈکر کے نظریات کو عام لوگوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ موجودہ جمہوری اور سماجی چیلنجز پر عوامی مکالمہ قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے فرقہ وارانہ نظریات سے سماج کو محفوظ رکھنے کے لیے گاندھی اور امبیڈکر کی فکر اور نظریات کو بڑے پیمانے پر عام کرنا ضروری ہے۔

مسلم سیاسی نمائندگی کا مسئلہ بھی ایجنڈے میں

شاہنواز عالم نے مسلم سیاسی نمائندگی سے متعلق سوال کو بھی یاترا کے اہم موضوعات میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچر کمیٹی نے مسلم اکثریتی نشستوں کو ریزرو کیے جانے کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کو عوامی نمائندہ بننے سے روکنے کی ایک کوشش قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ ہونے والی حد بندی کے دوران مسلم اکثریتی نشستوں کو جنرل کیے جانے کا مطالبہ بھی مکالمہ یاترا کے ذریعے اٹھایا جائے گا۔

نفرت انگیز تقریر اور رہائشی امتیاز پر بھی گفتگو

مکالمہ یاترا کے دوران کئی دیگر حساس مسائل پر بھی عوامی رائے ہموار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان میں تہواروں کے نام پر نان ویج دکانیں بند کرنے کے مبینہ غیر آئینی سرکاری احکامات، ہیٹ اسپیچ کے حوالے سے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد اور عدلیہ کے کردار جیسے مسائل شامل ہیں۔

اس کے علاوہ امریکہ اور یورپ کی طرز پر ’فیئر ہاؤسنگ ایکٹ‘ بنانے کا مطالبہ بھی اٹھایا جائے گا، تاکہ رہائش کے معاملے میں ہونے والے امتیاز کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

فرقہ وارانہ تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے قانون بنانے کی ضرورت کا مسئلہ بھی یاترا کے دوران اٹھایا جائے گا۔

چھوٹی میٹنگوں اور ورکشاپس کے ذریعے مکالمہ

منتظمین کے مطابق، یاترا کا انداز روایتی سیاسی ریلی کے بجائے چھوٹی میٹنگوں، مکالموں، ورکشاپس اور کتابوں کی نمائشوں پر مبنی ہوگا۔ اس میں مصنفین، صحافیوں، سیاسی و سماجی کارکنوں کے ساتھ یونیورسٹیوں کے طلبہ رہنما بھی شرکت کریں گے۔

یاترا کے ذریعے منتظمین گاندھی اور امبیڈکر کے نظریات کو موجودہ سماجی و سیاسی مسائل سے جوڑتے ہوئے شہریوں کے درمیان بحث، سوال و جواب اور مکالمے کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔

گاندھی۔امبیڈکر کے نظریات کے ساتھ علی گڑھ سے سہارنپور تک مکالمہ یاترا، اقلیتی حقوق سمیت کئی مسائل پر عوامی رائے ہموار کی جائے گی

ہندوستانی جمہوریت میں اقلیتوں کی سیاسی شمولیت، تحفظ اور نمائندگی کے حوالے سے کانگریس کے

بہار کانگریس بچاؤ مہم: سیکڑوں کانگریس کارکنوں کا دہلی میں احتجاج، قیادت میں تبدیلی سمیت چھ مطالبات پیش

بہار کانگریس کی موجودہ صورتحال سے ناراض سابق ارکانِ اسمبلی، سابق ضلعی صدور، سابق ریاستی