مدھوبنی میں ہجوم کی بربریت: انصاف کی فریاد لے کر جانے والی روشن خاتون کو کھمبے سے باندھ کر پیٹا، علاج کے دوران موت ہوگئی

بہار کے ضلع مدھوبنی میں ہجوم کے تشدد کا ایک دردناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ مقامی تنازع کے سلسلے میں انصاف کی فریاد لے کر جانے والی ایک مسلم خاتون روشن خاتون کو مبینہ طور پر ہجوم نے بے رحمی سے پیٹ دیا۔ شدید زخمی ہونے کے بعد روشن خاتون کی علاج کے دوران موت ہو گئی۔ واقعے کے بعد علاقے میں غم و غصہ اور کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ ضلع کے گھوگھرڈیہا تھانہ علاقے کے امہی گاؤں کا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق روشن خاتون گاؤں میں چل رہے ایک تنازع کے حل کے لیے پنچایت کے نمائندے کے پاس گئی تھیں۔ اسی دوران وہاں موجود کچھ افراد نے ان کے ساتھ مارپیٹ شروع کر دی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے روشن خاتون کو ایک کھمبے سے باندھ کر بے رحمی سے پیٹا۔ واقعے کے وقت گاؤں کے کئی لوگ موقع پر موجود تھے، لیکن طویل وقت تک مارپیٹ جاری رہی۔ اس حملے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں۔

اہل خانہ اور مقامی لوگوں کے مطابق زخمی روشن خاتون کو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کی حالت مسلسل بگڑتی گئی اور بالآخر ان کا انتقال ہو گیا۔

اس واقعے کے حوالے سے کچھ عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ حملے کے وقت روشن خاتون روزے سے تھیں اور پیاس لگنے پر انہوں نے پانی مانگا تھا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

اس معاملے میں پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق گاؤں کی مکھیا کے بیٹے کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے اور واقعے میں شامل دیگر افراد کی شناخت کی جا رہی ہے۔

ایک پولیس افسر نے بتایا کہ معاملے کی ہر پہلو سے جانچ کی جا رہی ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

واقعے کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں غم و غصہ پھیل گیا۔ مقامی لوگوں اور سماجی کارکنوں نے اس معاملے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات اور تمام ملزمان کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

انتظامیہ نے صورت حال کو دیکھتے ہوئے گاؤں میں اضافی پولیس فورس تعینات کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے علاقے میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور لوگوں کے بیانات قلم بند کیے جا رہے ہیں۔

روشن خاتون کی موت نے ایک بار پھر دیہی علاقوں میں ہجوم کے تشدد اور انصاف کی تلاش میں مقامی انتظامیہ تک پہنچنے والے کمزور طبقات کی سلامتی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان