بارہ بنکی مسجد کو دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کیا جائے۔ ای ٹی محمد بشیر آئی یو ایم ایل

نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) کے قومی آرگنائزنگ سکریٹری ای ٹی محمد بشیر ایم پی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ اتر پردیش پسماندہ طبقات اور مسلم اقلیتوں کے خلاف لاقانونیت اور مظالم کی سرزمین بن رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ پیر کو وسطی اتر پردیش میں واقع بارہ بنکی میں ایک قدیم مسجد کو جے سی بی کا استعمال کرکے مسمار کردیا گیا اور ملبہ کو ندی میں بہا دیا گیا۔یہ بھی بتایا گیا کہ پولیس نے لوگوں کو علاقے میں داخل ہونے سے مکمل طور پر روک دیا تھا۔ ضلعی انتظامیہ خود یہ غلط پروپگینڈہ کررہی ہے کہ یہ مسجد غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی جو کہ خود عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ قبل ازیں ضلعی انتظامیہ نے ایک نوٹس جاری کیا تھا کہ مسجد غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہے اور اسے منہدم کردیا جائے گا، جس کے بعد مسجد کمیٹی نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اسی بنا پر عدالت نے مداخلت کی اور حکم دیا کہ اس نوٹس پر عمل درآمد کو التوا میں رکھا جائے۔ قصور واروں نے عدالتی حکم پر عمل نہ کرتے ہوئے یہ گھناؤنا جرم کیا ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں مظاہرے کئے گئے ہیں اور متعدد افراد پر قتل کی کوشش اور غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انڈین یونین مسلم لیگ کا مطالبہ ہے کہ 1)۔ ان مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے مسجد منہدم کی تھی۔ 2)۔ مسجد کو اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کیا جائے اور تمام جھوٹے مقدمات خارج کردیئے جائیں۔ یوپی سنی وقف بورڈ اور مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی یہی اپیل کی ہے۔ اتر پردیش کے مسلم لیگ کے رہنماؤں کو جائے وقوع کا دورہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور مسلم لیگ نے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ کو بھی شکایت درج کروائی ہے۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان