بہوجن سماج پارٹی کو بہار میں بڑا جھٹکا، صوبائی انچارج انل کمار نے استعفیٰ دے دیا

بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے نتائج کے بعد بہوجن سماج پارٹی کو بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے۔ پارٹی کے بہار صوبائی انچارج انل کمار نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے عہدے اور پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس اچانک فیصلے سے پارٹی کے اندر ہلچل مچ گئی ہے اور بہار کی سیاست میں بھی یہ موضوع بحث بن گیا ہے۔

انل کمار نے اپنے استعفیٰ میں پارٹی صدر مایاووتی کو لکھا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر پارٹی کے کام کاج میں مکمل تعاون نہیں دے پا رہے ہیں۔ انہوں نے رضاکارانہ طور پر بہار صوبائی انچارج کے عہدے اور پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا اور اپنے دورِ کار کے دوران حاصل تعاون، رہنمائی اور محبت کے لیے پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

انل کمار کے استعفے کو پارٹی کے لیے بڑا نقصان سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسمبلی انتخابات کے بعد بہوجن سماج پارٹی پہلے ہی کمزور صورتحال میں ہے۔ پارٹی کے ذرائع کے مطابق، دو روز قبل منعقدہ پارٹی جائزہ اجلاس میں قومی کوآرڈینیٹر آکاش آنند بھی موجود تھے۔ اجلاس میں انل کمار کے کام کرنے کے انداز پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

انل کمار نے بتایا کہ ان کے پارٹی کے واحد رکن اسمبلی ستیش یادو کو حکومتی جماعت کی جانب سے توڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ تاہم، پارٹی کی جانب سے اب تک ان کے استعفیٰ پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی بسپا قیادت بہار میں نئے صوبائی انچارج کی تعیناتی کر سکتی ہے۔

انل کمار کا استعفیٰ ایسے وقت پر آیا ہے جب بہار کی سیاست نئے سیاسی توازن کی جانب بڑھ رہی ہے۔ رکنِ پارلیمان رام جی گوتم کا کہنا ہے کہ پچھلی بار کے مقابلے میں اس بار بہار میں بسپا کے ووٹ فیصد میں اضافہ ہوا ہے اور پارٹی کے لیے صوبے میں کئی مواقع موجود ہیں۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان