بی جے پی کے دورِ حکومت میں سب سے زیادہ مندر منہدم کیے گئے: اکھلیش یادو

سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دنیا میں کسی سیاسی جماعت نے اجتماعی طور پر سب سے زیادہ مندروں کو منہدم کیا ہے تو وہ بی جے پی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی عقیدے کی بات کرنے والی یہ پارٹی اقتدار میں رہتے ہوئے بڑے پیمانے پر مذہبی مقامات کو نقصان پہنچاتی رہی ہے۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی خود کو مندروں کی محافظ بتاتی ہے، لیکن اس کے دورِ حکومت میں ترقی، خوبصورتی کاری (بیوٹیفکیشن) اور قانون و انتظام کے نام پر کئی قدیم مندروں اور مذہبی مقامات کو توڑا گیا یا انہیں نقصان پہنچایا گیا۔

سماج وادی پارٹی کے صدر نے الزام لگایا کہ سڑکوں کی توسیع، کوریڈور منصوبوں اور شہری ترقی کی اسکیموں کے تحت مختلف ریاستوں میں مذہبی مقامات کو ہٹایا گیا، لیکن حکومتوں نے اس پورے عمل میں شفافیت نہیں برتی۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے مذہب اور عقیدے کا استعمال صرف سیاسی فائدے کے لیے کیا ہے۔

اکھلیش یادو نے کہا “جو لوگ عوامی پلیٹ فارموں سے مندروں کی بات کرتے ہیں، وہی اقتدار میں آنے کے بعد سب سے زیادہ مندر گراتے ہیں۔”

سماج وادی پارٹی کے صدر نے مرکز اور ریاستی حکومتوں سے اس معاملے میں جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ ترقیاتی منصوبوں کے دوران کتنے مندر اور دیگر مذہبی مقامات ہٹائے گئے اور کیا اس کے لیے مقامی لوگوں اور مذہبی تنظیموں کی رضامندی لی گئی۔

اکھلیش یادو کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی بی جے پی سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ خبر لکھے جانے تک بی جے پی کی جانب سے اس بیان پر کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔

دربھنگہ کے دانی میں گونجا پیامِ سیرت، 600 طلبہ نے اسلامی کوئز میں دکھایا اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ

دانی، دربھنگہ۔ نئی نسل کو دینی تعلیم، اخلاقی اقدار اور پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ

گاندھی۔امبیڈکر کے نظریات کے ساتھ علی گڑھ سے سہارنپور تک مکالمہ یاترا، اقلیتی حقوق سمیت کئی مسائل پر عوامی رائے ہموار کی جائے گی

ہندوستانی جمہوریت میں اقلیتوں کی سیاسی شمولیت، تحفظ اور نمائندگی کے حوالے سے کانگریس کے

بہار کانگریس بچاؤ مہم: سیکڑوں کانگریس کارکنوں کا دہلی میں احتجاج، قیادت میں تبدیلی سمیت چھ مطالبات پیش

بہار کانگریس کی موجودہ صورتحال سے ناراض سابق ارکانِ اسمبلی، سابق ضلعی صدور، سابق ریاستی