ٹی.آر.ای 4 امیدواروں پر لاٹھی چارج کے خلاف بھاکپا (مالے)، آئیسا اور آر وائی اے کا بہار میں شدید احتجاج: سمراٹ چودھری کا ریاست گیر پتلا نذرِ آتش، کئی اضلاع میں زبردست مظاہرے

بہار میں ٹی آر ای 4 امیدواروں پر حالیہ مبینہ لاٹھی چارج کے واقعے کو لے کر سیاسی اور طلبہ تنظیموں میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ 8 مئی کو پٹنہ میں پرامن احتجاج کر رہے امیدواروں پر پولیس کارروائی کے خلاف بائیں بازو کی تنظیموں—بھارتی کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ لیننسٹ)، آئیسا اور آر وائی اے—نے ہفتے کے روز ریاست گیر احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کا پتلا نذرِ آتش کیا۔

یہ احتجاج پٹنہ سمیت بیگوسرائے، آرا، سیوان، دربھنگہ، گیا، بہار شریف اور سمستی پور سمیت کئی ضلعی ہیڈکوارٹرز میں ایک ساتھ منعقد کیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں طلبہ اور نوجوانوں نے حکومت کے خلاف اپنا شدید غصہ ظاہر کیا۔

پٹنہ کے جی پی او گولمبر پر مرکزی احتجاج

دارالحکومت پٹنہ میں جی پی او گولمبر پر منعقد مرکزی احتجاجی پروگرام میں سیکڑوں طلبہ و نوجوان شامل ہوئے۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور ٹی آر ای فور امیدواروں پر مبینہ پولیس تشدد کی سخت مذمت کی۔

اس دوران متعدد رہنماؤں اور کارکنوں نے پتلا نذرِ آتش کرنے کے پروگرام میں حصہ لیا، جن میں کے ڈی یادو، کملیش شرما، جتیندر کمار، کمار دیویام، پونیت پاٹھک، ونئے کمار، مرتضیٰ علی، انوراگ سنگھ، ستیندر کمار، ابھیشیک کمار، نو شاد، آشا دیوی سمیت دیگر شامل رہے۔

نوجوانوں کے مستقبل پر حملہ” تنظیموں کا الزام

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ جن نوجوانوں کے ہاتھوں میں مستقبل میں ملک کے تعلیمی نظام کی ذمہ داری ہونی چاہیے، انہیں آج سڑکوں پر مجرموں کی طرح پیٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لاٹھی چارج کے دوران کئی امیدواروں کے سر پھٹ گئے اور درجنوں افراد زخمی ہوئے، جبکہ خواتین امیدواروں کے ساتھ بھی غیر انسانی سلوک کیا گیا۔

رہنماؤں نے اسے صرف انتظامی کارروائی نہیں بلکہ روزگار اور جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے نوجوانوں کے خلاف “ریاستی سرپرستی میں جبر” قرار دیا۔

روزگار کے بحران پر حکومت گھِر گئی

مظاہرین نے بہار میں بے روزگاری اور اساتذہ کی شدید کمی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں ہزاروں آسامیوں کے باوجود حکومت نئی بھرتی جاری کرنے کے بجائے احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔

بھارتی کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ لیننسٹ)، آئیسا اور آر وائی اے نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل (یونائیٹڈ) کی حکومت روزگار دینے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور جب بھی نوجوان اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آتے ہیں تو انتظامی طاقت کے ذریعے تحریک کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مطالبات اور انتباہ

تنظیموں نے حکومت سے فوری طور پر ٹی آر ای فور اسامیوں کے اعلان، تمام جائز مطالبات کی منظوری، لاٹھی چارج میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی، اور زخمی امیدواروں کے مناسب علاج و معاوضے کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے جلد اقدامات نہ کیے تو تحریک کو مزید تیز اور وسیع کیا جائے گا۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان