بہار میں راجیہ سبھا انتخابات سے پہلے این ڈی اے میں ہلچل: نتن نبین کی اندراج یقینی، اوپندر کشواہا کی راہ مشکل؛ جیتن رام منجھی کی دھمکی

بہار سے اگلے سال اپریل میں ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ کل 5 راجیہ سبھا نشستیں 9 اپریل 2026 کو خالی ہونے والی ہیں، جن میں سے این ڈی اے (بی جے پی‑جے ڈی یو اتحاد) کو فائدہ ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

این ڈی اے کے اندر پہلے ہی سے ہی کچھ تنازعہ اور کچکچ شروع ہو چکی ہے۔ بی جے پی سے نتن نبین کا راجیہ سبھا جانا تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ پارٹی نے انہیں حال ہی میں اپنا قومی ایگزیکٹو صدر مقرر کیا ہے۔

دوسری طرف، اوپندر کُشواہا کے لیے اس بار کا سیاسی حساب کتاب کہیں زیادہ پیچیدہ اور غیر یقینی نظر آ رہا ہے۔ ان کے پاس حمایتیوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے انہیں دوبارہ راجیہ سبھا بھیجنا مشکل سمجھا جا رہا ہے۔

این ڈی اے کے اتحادی جیتن رام منجھی نے واضح کہا ہے کہ اگر ان کی پارٹی کو راجیہ سبھا میں نشست نہیں دی گئی تو وہ اتحاد سے علیحدگی تک کے اقدامات کر سکتے ہیں۔ منجھی نے الزام لگایا کہ 2024 میں ان کی پارٹی کو راجیہ سبھا کی نشست دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔

اس کے جواب میں این ڈی اے کے دیگر اتحادیوں نے اس معاملے پر عوامی سطح پر بحث سے انکار کیا ہے، جبکہ کشواہا نے بھی کہا ہے کہ وہ الگ سے کوئی بیان بازی نہیں کریں گے اور اندرونی بحث کے بعد ہی فیصلہ ہوگا۔

راجیہ سبھا کی نشست جیتنے کے لیے بہار اسمبلی میں کم از کم 41 اراکین اسمبلی کی حمایت ضروری ہوگی۔ بہار کی حالیہ اسمبلی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بی جے پی‑جے ڈی یو کے لیے یہ کام نسبتاً آسان نظر آتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ راجیہ سبھا میں این ڈی اے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ مخالف جماعتوں کے لیے نشست جیتنا ایک چیلنج ہوگا۔

راجیہ سبھا انتخابات کی تیاریاں صرف سیاسی حساب کتاب تک محدود نہیں ہیں—یہ اتحاد اور رہنماؤں کے درمیان توازن کی بھی ایک آزمائش ہیں۔
جیسے جیسے اپریل 2026 کی تاریخ قریب آ رہی ہے، سیاسی ماحول میں بھی حرکت و ہلچل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان