اس اطلاع کے لیے کم و بیش پوری اردو آبادی تیار تھی کہ کسی بھی وقت بشیر بدر آخری سفر کے لیے نکل جائیں گے۔ عمر طبعی بھی 91برس کی ہو چکی تھی۔ کوئی سولہ برس سے ڈیمنشیا جیسے مہلک مرض میں وہ بسترِ مرگ سے لگ چکے تھے۔ نہ کسی کو پہچانتے تھے اور نہ کسی نئے پرانے موضوع کے بارے میں کوئی گفتگو کر سکتے تھے۔ زبان میں رعشہ اس قدر آچکا تھا کہ آواز اور الفاظ میں تال میل بٹھانا مشکل تھا۔ بہت کاوش کے بعد جب ان کے قریب ہو کر ان کے لا زوال شعر سنائیے تو چند الفاظ وہ دہرا دیتے تھے جس سے یہ سوچا جا سکتا تھا کہ ایک دو فی صد حافظہ اب بھی بچا ہوا ہے۔ دوست احباب اور دنیا جہان تو وہ بہت پہلے بھول چکے تھے۔
2010 ء میں منور رانا اور بشیر بدر کے درمیان بھوپال کے ایک مشاعرے میں نا چاقی پیدا ہوئی اور یہ رنجش اخبارات اور ٹی وی کے چینلوں کے سہارے قومی سطح پر پھیل گئی۔ اس کے بعد لکھنؤکے ایک مشاعرے میں بشیر بدر نے شرکت کی مگر بہت مشکلوں سے وہ اپنے اشعار کو یاد کر کے پڑھ سکتے تھے۔ جس شخص نے ساری زندگی اپنے حافظے کی بے پناہ قوت کے ساتھ مشاعروں میں کرشمہ سازی کی ہو اور ہند و پاک سے لے کر خلیج کے ممالک اور امریکہ کے مشاعروں میں جس کا طوطی بولتا ہو، وہ اس بے چارگی میں شعر پڑھے، خود اسے بھی قبول نہیں تھا۔ مشہور نقاداور شاعر اقبال مسعود نے بتایا کہ اس مشاعرے سے واپسی کے بعد انھوں نے گھر والوں سے یہ کہہ دیا کہ اب اس بے بسی میں مشاعروں میں میں شریک نہیں ہو سکوں گا۔ 2005ء میں ہی وہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے چیرمین بن چکے تھے مگر 2011ء میں اس مرض کی وجہ سے انھوں نے دفتر آنا جانا چھوڑ دیا اور آئندہ 15 برسوں تک وہ ادبی دنیا سے لا تعلقی کا عذاب جھیلنے کے لیے مجبور رہے۔
امراض کی چپیٹ میں کئی ادبا و شعرا اس طرح مبتلاہوئے کہ ان کی زندگی کا آخری دور نہایت بے بسی اور بے چارگی میں گزرا۔ سعادت حسن منٹو پر جنون کے دورے پڑے اور خوش قسمتی سے وہ صحت یاب ہو گئے۔ محمد حسین آزاد زندگی کے آخری اکیس برس(1889-1910) عالم جنون میں مبتلارہے اور قابلِ رحم حالت میں جینے کو مجبور رہے۔ ٹھیک اس سے پہلے وہ ’آبِ حیات‘ اور ’نیرنگ ِ خیال‘ جیسی شاہکار کتابیں لکھ چکے تھے۔ بنگلا کے عظیم شاعر قاضی نذرالاسلام بھی 1946ء میں اپنے ایک نغمے کی اپنی آواز میں جب ریکارڈنگ کرا رہے تھے، اس وقت ان کی آواز بند ہو گئی۔ دنیا جہان کے علاج معالجے کے باوجود 1976ء میں ہی موت سے چارہ گری ممکن ہو سکی۔محمد حسین آزاد نے زندگی کے آخری بیش قیمت اکیس برس اور قاضی نذرالاسلام نے زندگی کے آخری تیس برس ان خداداد بیماریوں کی نذر کیے۔ بشیر بدر بھی اس وقت جب وہ عالمی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ چکے تھے، قدرت نے ان کا ایسا سخت امتحان لیا کہ جس سے موت کے ساتھ ہی نجات ملی۔ زندگی کے آخری سولہ برس ذہن و دل کی معطلی اور حافظے کی تنگی میں بسر کرنے کو مجبور ہوئے۔
بشیر بدر کو بہت سارے شعرا و ادبا کی طرح بنی بنائی زندگی نہیں ملی۔ والد بھی پولیس کی ملازمت میں معمولی درجے کے کارکن تھے۔ موجودہ امبیدکر نگر (یوپی) کے بُکیا گائوں سے ان کا آبائی رشتہ رہا مگر ان کا گھرانا کوئی صاحبِ حیثیت گھرانوں میں شامل نہیں تھا اور نہ کوئی زمین جائداد ان کے خاندان کے پاس تھی۔والد جب کانپور میں برسرِکار تھے، وہیں15فروری1935ء میں وہ پیدا ہوئے۔ اٹاوا سے ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ 1957ء میں وہ سیتا پور میں پولیس کانسٹیبل کے طور پر فائز ہوئے۔ اس دوران ان کے والد گزر چکے تھے اور پورے خاندان کی کفالت ان کے سر پر آچکی تھی۔سیتاپور میں رہتے ہوئے پرائیوٹ طور پر ادیبِ ماہر کے امتحان میں شریک ہوئے۔1964ء میںخیرآباد سے انھوں نے ادیبِ کامل کا امتحان گولڈ میڈل حاصل کرتے ہوئے پاس کیا۔
اسکول کے زمانے سے ہی وہ شعر کہنے لگے تھے اور رسائل و جرائد میں ان کا کلام شائع ہونے لگا تھا۔ سیتا پور کے مشاعروں میں وہ ابھرتے ہوئے شاعر کے طور پر اپنی پہچان بنانے لگے تھے۔ قاضی عبدالستار کی معاونت سے وہ علی گڑھ پہنچے اور مسلم یونیورسٹی سے ایم۔اے اور پی ایچ۔ ڈی ۔کے مدارج تک پہنچے۔1967ء میں انھوں نے پولس کی ملازمت چھوڑ دی تھی اور یونیورسٹی فیلوشپ کے ساتھ مشاعروں کی آمدنی سے اپنی زندگی کی گاڑی چلانے لگے۔والد کی زندگی میں ہی ان کی چچازاد بہن قمر جہاں(شہناز) سے شادی ہوئی جن سے تین اولادیں ہوئیں۔1984ء میں ان کا انتقال ہوا ۔اس کے بعد 1986ء میں محترمہ راحت سلطان عرف راحت بدر سے نکاحِ ثانی ہوئی جنھوں نے زندگی کی آخری سانس تک زندگی کے کڑے کوسوں میں بشیر بدر کی ہمراہی کا صبر آزما فریضہ انجام دیا۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ان کی زندگی اوران کے خواب بدلنے کا ایک ذریعہ بنی۔ جب وہاں وہ پہنچے، شاعر کی حیثیت سے ان کی شہرت اچھی خاصی پھیل چکی تھی۔ ایم ۔اے کے نصاب میں چند جدید شاعروں کے ساتھ ان کا کلام بھی شامل تھاجو کسی طالبِ علم کے لیے یوں ہی ایک اعزاز کی بات تھی۔ ایم۔ اے میں وہ مسلم یونیورسٹی میں فرسٹ کلاس فرسٹ ہوئے اور تمغۂ امتیاز پانے میں کامیاب رہے۔ تقریباً دو دہائیوں تک سب سے زیادہ نمبر لانے والے طالبِ علم کی حیثیت سے ان کا رکارڈ قائم رہا جسے بعد میں غالبًا قمرالہدافریدی، موجودہ صدر شعبۂ اردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے پار کیا تھا۔ 1969ء میں غالب صدی کے موقعے سے علی گڑھ میگزین کا انھوں نے اپنی ادارت میں خصوصی شمارہ شائع کیا۔ آلِ احمد سرور کی نگرانی میں انھوں نے ’’آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ ‘‘ کے عنوان سے پی ایچ۔ ڈی کا مقالہ لکھا جس پر انھیں 1973ء میںڈگری تفویض ہوئی۔ 1981ء میںتحقیقی مقالے کے ابتدائی ابواب کو علاحدہ طور پر ’’بیسوی صدی میں اردو غزل‘‘ کے عنوان سے ایک مختصر کتاب کی شکل میں پیش کیا۔ اسی سال ان کا تحقیقی مقالہ بھی انجمن ترقی اردو ہند سے بہ اہتمام شائع ہوا۔ اس کتاب میں جدید اردو غزل کے امتیازات واضح کرنے کے لیے بشیر بدر نے خود اپنے 87 اشعاربہ طور اقتباس استعمال کیے تھے۔
ایک مختصر مدت کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں عارضی طور پر درس و تدریس سے وہ متعلق ضرورہوئے مگر مستقل ملازمت انھیں میرٹھ کالج، میرٹھ میں ملی جہاں کم و بیش وہ سترہ برس تک درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ 1987ء میں میرٹھ کے فرقہ وارانہ فسادات میں بشیر بدر کے گھرمیں آگ لگا دی گئی۔ بشیر بدر کے گھر کے سامان کے ساتھ ان کا بہت سارا کلام اور ضروری کاغذات بھی اس آتش زدگی کی نذر ہوئے۔ 7جون1987ء کے اردو، ہندی ، انگریزی کے تمام اخبارات نے بشیر بدر کے پرانے مصرعے کو اس دن اپنی سرخیوں میں شامل کیا: ’یہ نئے مزاج کا شہر ہے،ذرا فاصلے سے ملا کرو‘ ۔1984ء میں بشیر بدر کی اہلیہ شہناز ان کے غیر ملکی سفر کے دوران گزر چکی تھیں۔ 1986ء میںانھوں نے جو دوسری شادی کی، وہ خاندان بھوپال سے متعلق تھا اور ناچار اسی مرحلے میں بشیر بدر نے میرٹھ سے مستقل طور پر بھوپال منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اب وہیں کی خاک میں وہ ہمیشہ کے لیے پیوست ہو گئے۔
بشیر بدر ابتدائی دور سے ہی اترپردیش کے چھوٹے بڑے مشاعروں میں کلام پیش کر کے اپنی شہرت میں اضافہ کرنے لگے تھے۔ وہی دور تھا جب جگرمرادآبادی، ساغر نظامی، فراق گورکھپوری جیسے شعرا مشاعروں کی بزم میں آخری آفتاب و ماہتاب بنے ہوئے تھے۔ ترقی پسند شعرا اور بعض کلاسیکی رنگ کے شعرا اپنا رنگ جمائے ہوئے تھے۔ یہ خاص موقع تھا جب نئے رنگ و آہنگ کے لوگ جو شعر و ادب میں اپنی جگہ بنا رہے تھے، وہ رسائل سے نکل کر مشاعروں کی بزم میں بھی حاضر ہوں۔ ملک زادہ منظور احمد نقیب کی حیثیت سے ابھرے اور بشیر بدر ایک ایسے البیلے شاعر کی حیثیت سے میدان میں آئے جو تحت اللفظ کے ساتھ کلاسیکی ترنم میںبہ یک وقت اپنے اشعار پیش کر سکتے تھے۔ اپنے شعری پیکر اور استعاروں کی وجہ سے یوں بھی بشیر بدر ہمیں حیرت انگیز طور پر چونکاتے تھے، انھیں یہ موقع ملا کہ اپنی شاعری میں جستہ جستہ رومانوی اظہار کے پیمانوں کو بھی انڈیلتے جائیں۔ پرانے شعرا جدید تعلیم سے آراستہ نہیں تھے۔ بشیر بدر ہوں یا ملک زادہ منظور احمد، دونوں جدید تعلیم کے فیض یافتہ تھے۔ دونوں یونیورسٹیوں سے پی ایچ۔ ڈی کر کے مشاعروں کے اسٹیج تک پہنچے تھے۔ ان کی زبان سے لفظ تازہ پھول کی طرح رنگ اور خوشبو کا کھیل رچا تے تھے۔ دونوں کو جملے گڑھنے اور اپنی حاضر جوابی سے محفل لوٹنے کا فن آتا تھا۔ 1970ء سے2010ء کے چالیس برسوں میں ہندستان اور دوسرے ممالک کے مشاعروں کے لیے یہ شعرا لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے تھے اور انھیں کبھی پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ باقی تمام شعراکی فہرست بدلتی رہتی تھی مگر یہ دونوں لازمی طور پر ایسے کسی مشاعرے کا حصّہ ہوتے تھے۔
علی گڑھ میں قیام کے دوران بشیر بدر کا پہلا شعری مجموعہ 1969ء میں ’اکائی‘ کے نام سے شائع ہوا۔ مجموعے کی آمد سے پہلے بشیر بدر کے اشعار اس دور کے معتبر نقادوں کے مضامین میں نقل کیے جانے لگے تھے۔ 1967ء میں شمس الرحمن فاروقی اور حامد حسین حامد کی مرتبہ ’’نئے نام‘‘ میں بھی بشیر بدر کی ایک غزل شامل ہو چکی تھی۔ ’اکائی‘ نے بشیر بدر کو جدید شعرا میں بالکل انوکھے رنگ کے شاعر کے طور پر اعتبار بخشا۔ چار برس کے بعد ’امیج‘ نام سے ان کا دوسرا شعری مجموعہ سامنے آیا جس نے ہم عصر شاعری میں انھیں سکۂ رائج الوقت بنایا۔ 1985ء میں جب کافی انتظار کے بعد تیسرا شعری مجموعہ ’آمد‘ منظر عام پر آیا، اس کی شاعری سے زیادہ اس کے پیش لفظ کا چرچا رہا جس میں بشیر بدر نے ’ایک خط 2035کے پڑھنے والوں کے نام‘ مضمون شامل کیا تھا۔ اس کے بعد’ آس‘،’ آہٹ‘ اور’ آسمان‘ مجموعے ایک ایک کر کے آتے گئے مگر ان کے ابتدائی دو مجموعوں نے جو سکہ جمایا تھا، وہی اردو کے قارئین کے ذہن پر چھایا رہا۔ 1999ء میں ’آس‘ مجموعے پر انھیں ساہتیہ اکادمی کا انعام ملا اور اسی سال’ پدم شری‘ کا بھی خطاب حکومتِ ہند نے عطا کیا۔ وہ اس دوران اٹل بہاری باجپئی کے انتخاب میں لکھنؤ آکر تشہیری مہم کا حصہ بنے۔ مدھیہ پردیش میں بھی اردو اکادمی کی صدارت شیوراج سنگھ چوہان کے دورِ اقتدار میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے انھیں حاصل ہوئی۔
بشیر بدر نے ادبی اور سماجی اعتبار سے ایک بھری پری زندگی گزاری۔ مقبولیت کا انھوں نے جو زمانہ دیکھا، جگرمرادآبادی کے بعد شاید ہی کسی اردو شاعر کے حصے میںوہ آئی ہو۔ مشاعروں میں دولت برسنے کی وہ ابتدا تھی مگر بشیر بدر نے ہی اس کی ابتدائی نرخیں طے کیں۔ چینلس اور ٹیلی کمیونیکیشن کی چکا چوند کے دور میں بہت سارے شعرا نے اپنی جگہ بنائی مگر یہ شاید ہی ممکن ہوا ہو کہ ہندستان کے کسی گوشے میں مشاعرے کا خاکہ تیار ہو اور فہرست میں پہلے مقام پر بشیر بدر کا نام نہ لکھا جائے۔ یہ صورت کوئی چار دہائیوں تک قائم رہی۔ بہت کم جگہوں کے لیے ہوائی جہاز کا سفر ممکن ہوتا تھا ۔ٹرین ، بس اور کار کے سہارے بشیر بدر اپنی عوامی مقبولیت کے آسمان تک پہنچے۔ اس مقبولیت نے ایک طرف انھیں عالمی شناخت اور دولت عطا کی تو دوسری طرف خالص ادبی میدان میں ان کے حاسدین اور خود بشیر بدر کی بڑھی ہوئی انانیت نے ایک معکوسی کیفیت پیدا کی۔ جب وہ مشاعروں میں سب سے بڑے شعرا میں گنے جاتے تھے، 1980ء کے بعد اردو کے ادبی رسائل اور نقادوں کے مضامین سے ان کے نام غائب ہونے لگے۔ ان کی نئی شاعری اپنے ابتدئی دو مجموعوں کی مقبولیت کا ذائقہ دوبارہ نہیں پیش کر سکی۔ ان کی ادبی پہچان اور مشاعرے کی مقبولیت کے بیچ جو رسہ کشی شروع ہوئی ، اس نے شعر و ادب کے کئی نئے مسائل پیدا کیے ۔یہ بحث بھی شروع ہوگئی کہ مقبولیت اور ادبیت میں واضح مخاصمت ہے۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہونے لگا کہ مشاعروں میں کم تر درجے کی شاعری اب زیادہ پہچان بنانے لگی ہے۔ مل جل کر یہ صورتِ حال پیدا ہوئی کہ 1980ء سے پہلے کے بشیر بدر اور اس سے بعد کے بشیر بدر کی ادبی پہچان میں دو لخت رویہ سامنے آنے لگا۔
(اب اس کے بعد کا قصہ اگلی قسط میں ملاحظہ کریں)
safdarimamquadri@gmail.com
(مضمون نگار شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ میں اردو کے استاد ہیں۔)