بابری پر نیا تنازع — وجے سنہا کا بیان: ’’اب مسجد نہیں، مندر کا دور ہے‘‘

پچھم بنگال کے مرشدآباد ضلع میں بابری مسجد کے شیلانیاس سے متعلق پوسٹر لگائے جانے کے بعد سیاسی میدان میں نئی گرما گرمی پیدا ہوگئی ہے۔ اس واقعے پر بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار سنہا نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب بھارت میں دوبارہ بابری مسجد نہیں بنے گی اور ملک میں صرف بھگوان رام اور ماتا جانکی کے مندر ہی تعمیر ہوں گے۔

پٹنہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سنہا نے کہا ’’بھارت میں پھر کبھی بابر پیدا نہیں ہوگا جو اس زمین پر بابری مسجد بنا سکے۔ ماں بھارتی کا سپوت جاگ چکا ہے۔ بابر کی کوئی اولاد اب بھارت میں بابری مسجد نہیں بنائے گی۔‘‘

یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب مرشدآباد کے بیلڈانگا علاقے میں منگل کی شب کچھ پوسٹر لگائے گئے جن میں 6 دسمبر کو ’بابری مسجد شیلانیاس تقریب‘ منعقد کرنے کا اعلان درج تھا۔ پوسٹر میں ترنمول کانگریس کے رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کو اس پروگرام کا منتظم بتایا گیا ہے۔

ہمایوں کبیر کا بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ’’ہم 6 دسمبر کو بابری مسجد کی بنیاد رکھیں گے۔‘‘

قابلِ ذکر ہے کہ 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد کو منہدم کر دیا گیا تھا، جس کے بعد بابری مسجد–رام جنم بھومی تنازع برسوں تک عدالت میں چلتا رہا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اُس مقام پر رام مندر کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔

اس دوران رام مندر کے احاطے میں شاندار دھوجا روہن (پرچم کشائی) کی تقریب بھی منعقد کی گئی، جسے تنازع کے پس منظر میں ایک علامتی موقع قرار دیا جا رہا ہے۔

مرشدآباد میں لگے اس پوسٹر کے بعد سیاسی بیان بازی میں تیزی آگئی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ریاستی اور قومی سطح پر ایک بڑا سیاسی موضوع بن سکتا ہے۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان