مظفر پور، 7 جولائی, ریاست میں اردو تحریک کئی اسٹیج سے چلائے جا رہے ہیں مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ اس بیچ حلقہ ادب کو متحرک کر اردو کی تحریک کو مستحکم کرنے کی غرض سے جو حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے قابل ستائش ہے۔ حلقہ ادب کا دائرہ بڑھانا اور اردو ایکشن کمیٹی کی توسیع کا فیصلہ یہ اشارہ کرتی ہے کہ اب اردو تحریک کو ایک نئی منزل حاصل ہوگی۔ اس سلسلے میں ایک بڑا کام یہ ہوا ہے کہ حلقہ ادب کے صدر کا عہدہ ایک ایسی شخصیت کو سونپا گیا ہے جن کو وراثت میں ہی اردو کی خدمت کا کام ملا ہے۔ جناب اشرف فرید کو حلقہ ادب کا صدر منتخب کیا جانا نہایت خوش آئند قدم ہے۔ یہ باتیں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع نے کہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اشرف فرید حقیقت میں خادم اردو ہیں۔ ان کی پیدائش اردو گھر میں، پرورش اردو گھر میں اور اللہ نے روزی بھی اردو کے دائرے میں مہیا کرائی ہے۔ جب میں کٹیہار میڈیکل کالج کٹیہار کے چئیرمین و راجیہ سبھا ممبر جناب احمد اشفاق کریم کے پندرہ روزہ ہندی رسالہ ” وطن دوست ” کے لئے کام کرتا تھا تو میری ان سے کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں، انہیں یاد ہو کہ نہ ہو، وہ نہایت ہی خوش مزاج اور حسن اخلاق والی شخصیت ہیں۔ اس لئے ان کو اردو کی ترویج و اشاعت کی ذمہ داری سونپنا قابل تعریف قدم ہے ، ہم ان پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ ہماری سچی رہنمائی کریں گے۔ اس موقع پر میں اپنی طرف سے اور قومی اساتذہ تنظیم بہار کی طرف سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید ظاہر کرتا ہوں کہ اللہ انہیں اس منسب میں صد فیصد کامیابی عطا فرمائے، کیونکہ ان کی کامیابی میں ہی ہمارا نفع پوشیدہ ہے۔
1857 کی پہلی جنگِ آزادی کے عظیم مجاہد اور بہار کے اولین شہداء میں شامل
کالعدم تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے متعلق مبینہ دہشت گردی سازش کے مقدمے میں
اردو تنقید، تحقیق اور ادب کی دنیا کے ممتاز محقق، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے سرفراز
پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے متعلق مبینہ منی لانڈرنگ معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے
جمہوریت میں اختلافِ رائے اور پُرامن احتجاج کے حق کو آئین کی بنیادی روح قرار
بہار کی سیاست میں اِن دنوں بانکی پور ضمنی انتخاب کی چرچا زور پکڑ رہی
✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے
بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ