ارریہ میں نو بیاہتا کی مشتبہ موت، سسرالیوں پر جہیز کے لیے قتل کا الزام

انصاف ٹائمس ڈیسک

ارریہ ضلع کے بنگاما پنچایت میں ایک نو بیاہتا کی مشتبہ حالات میں موت نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ متوفیہ کے اہلِ خانہ نے سسرالی رشتہ داروں پر جہیز کے لیے قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ پولیس نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ساس اور شوہر کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔

متوفیہ کی شناخت سپنا کماری (22 سال)، ساکنہ رادھا نگر، پورنیہ کے طور پر ہوئی ہے۔ سپنا کی شادی پانچ ماہ قبل بنگاما وارڈ نمبر 13 کے رہائشی سونو کمار سے ہوئی تھی۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں سب کچھ معمول پر رہا، لیکن اس کے بعد سسرالی رشتہ داروں نے جہیز کا مطالبہ شروع کر دیا۔

سپنا کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ سسرالی افراد نے جہیز میں چار لاکھ روپے اور ایک موٹر سائیکل کا تقاضہ کیا تھا۔ جب اہلِ خانہ اس مطالبے کو پورا کرنے سے قاصر رہے تو سسرالیوں نے سپنا کے ساتھ مارپیٹ کی اور اسی تشدد نے اس کی جان لے لی۔

واقعے کے بعد سپنا کے اہلِ خانہ نے نگر تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی۔ پولیس نے ساس اور شوہر کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ صدر ایس ڈی پی او سوشیل کمار نے بتایا: ’’لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ متوفیہ کے اہلِ خانہ کی تحریری شکایت پر مزید کارروائی جاری ہے۔‘‘

یہ سانحہ معاشرے میں جہیز کی لعنت کو ایک بار پھر بے نقاب کرتا ہے۔ عوام نے حکومت اور سماج دونوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سماجی برائی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں اور مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان