امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک نہایت سخت اور متنازعہ انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ “آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے۔” ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک تفصیلی پیغام جاری کرتے ہوئے ایران کو براہِ راست خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقررہ وقت تک کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو نتائج “بے مثال اور تباہ کن” ہو سکتے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا: “آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے، جو دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی… میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن ایسا ممکن ہے۔”
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران میں “مکمل اور جامع نظامِ حکومت کی تبدیلی” کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اور مستقبل میں “کم انتہا پسند اور زیادہ سمجھدار قیادت” ابھر سکتی ہے۔ انہوں نے اسے عالمی تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ایک قرار دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان سفارتی نقطۂ نظر سے نہایت غیر معمولی اور جارحانہ سمجھا جا رہا ہے۔ عموماً ایسے عوامی پلیٹ فارمز پر اس نوعیت کی وسیع پیمانے پر تباہی کی وارننگ دینے سے گریز کیا جاتا ہے، مگر اس بار انہوں نے ممکنہ فوجی کارروائی کے نتائج کو نہایت سخت الفاظ میں بیان کیا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ “پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے” جیسے الفاظ محض ایک انتباہ نہیں بلکہ دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی بھی ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کی زبان بین الاقوامی سیاست میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے اور اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ سمیت کئی بین الاقوامی اداروں اور رہنماؤں نے اس بیان پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں فریقوں سے تحمل اور صبر کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
فی الحال پوری دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ اس بیان کے بعد حالات کس سمت اختیار کرتے ہیں—کیا یہ محض سفارتی دباؤ ہے یا کسی بڑے فوجی تصادم کی تمہید تیار کی جا رہی ہے۔