آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر مولانا عبداللہ مغیثی کے انتقال پر امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کا گہرا رنج و غم، کہا: “ملت ایک مخلص، متوازن اور مؤثر آواز سے محروم ہو گئی”

نمایاں اسلامی اسکالر اور آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر حضرت حکیم مولانا عبداللہ مغیثی کے انتقال پر امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال، مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا: “إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔”

خانقاہِ رحمانیہ، مونگیر کے سجادہ نشین مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مولانا عبداللہ مغیثی نے طویل عرصے تک دین، تعلیم اور ملی میدان میں سنجیدہ اور مؤثر خدمات انجام دیں۔ وہ ملی مسائل پر واضح اور بے باک موقف رکھنے والے ایک باوقار عالم تھے، جن کی پہچان ان کے متوازن افکار اور دور اندیشی سے ہوتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ مرحوم نے مختلف اداروں کی سرپرستی اور رہنمائی کرتے ہوئے تعلیم، سماجی اصلاح اور ملی بیداری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تحریری اور عملی خدمات سے اہلِ علم کی ایک بڑی جماعت نے استفادہ کیا ہے۔

امیرِ شریعت نے مزید کہا کہ مولانا مغیثی کی شخصیت اخلاص، سنجیدگی اور خدمتِ خلق کے جذبے کی علامت تھی۔ ملی اتحاد، دین کی شناخت کے تحفظ اور تعلیمی ترقی کے لیے ان کی کوششیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عبداللہ مغیثی کے انتقال سے ملتِ اسلامیہ ایک مخلص، متوازن اور مؤثر آواز سے محروم ہو گئی ہے، جس کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جائے گی۔

آخر میں امیرِ شریعت نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی خدمات کو قبولیت عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ و متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان