“بین الاقوامی برادری نے افغان-پاک سرحد پر بڑھتے ہوئے تناؤ کو روکنے کی اپیل کی ہے۔ چین، روس، ترکی اور اقوام متحدہ نے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل کا مطالبہ کیا ہے۔”

افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی تنازعہ نے بین الاقوامی برادری میں تشویش بڑھا دی ہے۔ چین، روس، ترکی اور اقوام متحدہ نے دونوں ممالک سے تحمل اور سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے۔

چین کا پیغام

بیجنگ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان اس کے پڑوسی ممالک ہیں اور سرحدی تنازعے سے شہریوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ چین نے دونوں فریقین سے گفتگو اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

روس کی ثالثی کی پیشکش

روس کے خصوصی نمائندے جمیر قبولوو نے کہا کہ ماسکو اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے افغان اور پاکستانی حکام سے کہا کہ ضرورت پڑنے پر روس مذاکرات قائم کرنے اور ثالثی کرنے کے لیے تیار ہے۔

ترکی کا اقدام

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ انقرہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور امن قائم کرنے میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ترکی نے فوری مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔

اقوام متحدہ کی وارننگ

یو این اے ایم اے نے کہا کہ سرحدی تنازعے میں شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق 26 فروری سے 2 مارچ تک کم از کم 42 شہری ہلاک اور 104 زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے تمام فریقین سے فوری جنگ بندی اور انسانی حقوق کے احترام کی اپیل کی ہے۔

انسانی بحران اور نقل مکانی

سرحد پر جاری تشدد کی وجہ سے ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ انسانی امداد پہنچانے میں مشکلات درپیش ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ افغانستان میں پہلے سے خراب انسانی صورتحال کو مزید سنگین کرے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ کشیدگی طویل عرصے سے جاری سکیورٹی مسائل، سرحدی تنازعات اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغان زمین کا استعمال اس کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کے لیے کیا جا رہا ہے، جبکہ افغان حکومت اسے مسترد کرتی ہے۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ