مظفر پور،20 جون، پٹنہ ہائی کورٹ کے سی ڈبلیو سی نمبر 15459/2014 بمطابق 05 دسمبر 2016 سے پاس حکم نامہ کے مطابق پنچایتی راج ادارہ اور نگر نگم ادارہ کے تحت سال 2006 سے 2015 کے درمیان بہال سبھی اساتذہ کے سرٹیفکٹوں کی جانچ ویجلنس کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ مگر اب تک ضلع انتظامیہ کے ذریعہ تمام اساتذہ کا فولڈر جمع نہ کرنا قابل مزمت ہے۔ تعلیمی ادارہ نے آخری موقع دیتے ہوئے ایک ویب پورٹل بنایا ہے جس میں ویسے اساتذہ کا نام درج ہے جسے جانچ کے لئے سرٹیفیکیٹ جمع کرنا ہے۔ اساتذہ ویب پورٹلhttps://state.bihar.gov.in/education Bihar/citizenHome.html پر https://appsonlink.bih.nic.in کے لنک پر اپنا نام دیکھ سکتے ہیں اور یہیں سے لوگنگ کر کے اپنا سرٹیفکٹ اپلوڈ کر سکتے ہیں۔ لیکن پر یہ الزام ہے کہ ابتدائی تعلیمی ادارہ اساتذہ کو خواہ مخواہ پریشان کرنے کا ہربہ کرتی رہتی ہے۔ خصوصاً جانچ کے نام پر اسے زیادہ پریشان کیا جاتا ہے۔ حکومت اور تعلیمی ادارہ سے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع نے کہا کہ سال میں ایک سے دو بار جانچ کے نام پر کاغزات مانگے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نگرانی کو فولڈر بھی جمع کرایا جا چکا ہے پھر بھی جانچ کے لئے اساتذہ سے فولڈر کی مانگ کرنا اور بے جا اسے پریشان کرنا غیر اخلاقی عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جاری نئے حکم نامہ کے مطابق اساتذہ کو اپنے سرٹیفکیٹ اور میگھا لسٹ آن لائن اپلوڈ کرنا ہے، تعلیمی ادارہ کا یہ تغلقی فرمان ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حکم نامہ کی آر میں اردو اساتذہ کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے جو برداشت کے قابل نہیں ہے۔ خطوط کے مطابق سال 2006 سے 2015 تک بہال اساتذہ کو ہی سرٹیفیکیٹ اپلوڈ کرنے ہیں مگر جو لسٹ جاری ہوئی ہے اس میں 2016 کے اساتذہ کے نام ہیں، اس میں بھی اردو اساتذہ کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ مظفر پور کے کڈھنی بلاک کا مثال پیش کرتے ہوئے رفیع صاحب نے کہا کہ کل 62 اساتذہ کے لسٹ میں 54 یعنی 87.096 فیصدی اردو اساتذہ ہیں اور سب کے سب 2015 کے بعد بہال ہیں۔ اس سلسلے میں ضلع صدر شمشاد احمد ساحل نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ادارہ کے افسران کو آرے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ہم لوگوں نے فولڈر جمع کر دیا تھا لیکن لسٹ میں ہم لوگوں کا بھی نام ہے اسے کیا کہا جائے گا، ڈپارٹمنٹ کی منمانی ہم نہیں چلنے دیں گے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کوئی بات ہوئی کہ مینا پور میں کل ایک ہزار کے قریب اساتذہ میں 928 کا نام لسٹ میں ہے۔ محمد رفیع نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس سلسلے میں میں نے جب ضلع تعلیمی افسر مظفر پور عبدالسلام انصاری سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کے اساتذہ کے مسائل کو لیکر ہم بھی فکر مند ہیں مگر 2016 کی جو بات ہے اس کی سچائی یہ ہے کہ 2016 اور 2017 میں جو بہالی ہوئی ہے وہ 2015 والی ہی بہالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک میگھا لسٹ کی بات ہے اس پر ہم لوگ لیٹر نکلوا رہے ہیں جس سے اسے حاصل کرنے میں سہولت ہو۔ جہاں تک لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ہم نے فولڈر جمع کیا تھا اور اب میرا نام بھی جمع نہ کرنے والوں کے لسٹ میں ہے تو اصل بات یہ کہ ہم نے 99 سو فولڈر ویجلنس کو جمع کیا تھا بڑی مشقت سے اس نے 9134 کا لسٹ دیا، تو اتنے کو چھوڑ کر ہی لسٹ جاری کیا گیا ہے جس میں 2016 والے کا فولڈر تو جمع ہوا ہی نہیں تھا۔ قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی صدر تاج العارفین نے ڈپارٹمنٹ کو ایک مشورہ دیا کہ وہ ڈائریکٹ اس ادارے سے فولڈر اور دیگر کاغزات کی مانگ کرے جس نے اساتذہ کی بہالی کی ہے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، اساتذہ کرام خواہ مخواہ کی پریشانی سے بچ جائیں گے اور جانچ کا کام بھی خاموشی سے ہو جائے گا۔ ڈپارٹمنٹ کا ڈھنڈھورا پیٹنے کا کیا مقصد ہے وہ ہماری شبیہ خراب کرنا چاہتا ہے جسے کہیں سے درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت پری تو اساتذہ کرام کے لئے ہم بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار ہیں۔
جانچ کے نام پر اساتذہ کو پریشان کرنا غیر اخلاقی عمل : محمد رفیع
اساتذہ کے سہولت کے لئے ہم فکر مند : عبدالسلام انصاری
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران 24 جولائی کو قومی دارالحکومت نئی دہلی میں ملک
راجدھانی دہلی کے جنتر منتر پر مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتہ کے روز ایودھیا میں ایک
1857 کی پہلی جنگِ آزادی کے عظیم مجاہد اور بہار کے اولین شہداء میں شامل
کالعدم تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے متعلق مبینہ دہشت گردی سازش کے مقدمے میں
اردو تنقید، تحقیق اور ادب کی دنیا کے ممتاز محقق، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے سرفراز
پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے متعلق مبینہ منی لانڈرنگ معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے
جمہوریت میں اختلافِ رائے اور پُرامن احتجاج کے حق کو آئین کی بنیادی روح قرار