بہار کانگریس بچاؤ مہم: سیکڑوں کانگریس کارکنوں کا دہلی میں احتجاج، قیادت میں تبدیلی سمیت چھ مطالبات پیش

بہار کانگریس کی موجودہ صورتحال سے ناراض سابق ارکانِ اسمبلی، سابق ضلعی صدور، سابق ریاستی عہدیداران اور پارٹی کے سیکڑوں رہنماؤں و کارکنوں نے منگل کے روز نئی دہلی میں واقع آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) کے ہیڈکوارٹر، اندرا بھون کے سامنے پُرامن دھرنا و احتجاج کیا۔ مظاہرین نے بہار کانگریس میں تنظیمی اصلاحات، پرانے اور وفادار کارکنوں کی واپسی اور قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کی قیادت سینئر کانگریسی رہنما اور AICC رکن آنند مادھو سمیت کئی سابق ارکانِ اسمبلی، سابق ضلعی صدور اور سینئر کانگریسی رہنماؤں نے کی۔ احتجاج کے بعد AICC کی جانب سے مظاہرین سے ملاقات کے لیے پہنچنے والے منیش چھترت کو کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور سینئر رہنما راہل گاندھی کے نام ایک یادداشت پیش کی گئی۔

آنند مادھو نے کہا کہ بہار میں مسلسل کوششوں اور بات چیت کے باوجود جب پارٹی کے وفادار کارکنوں کی بات نہیں سنی گئی تو انہیں دہلی آنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانگریس کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں بلکہ بہار میں پارٹی کے موجودہ طریقۂ کار اور تنظیم کی صورتحال کے حوالے سے اپنی تشویش پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک پہنچانے آئے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بہار کانگریس کی تنظیم مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے اور پرانے و وفادار کانگریسیوں کو مناسب احترام نہیں مل رہا ہے۔ انہوں نے صداقت آشرم کی صورتحال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس جگہ کو کانگریس کارکن اپنا مندر سمجھتے ہیں، وہاں پارٹی کارکنوں کے بجائے دیگر جماعتوں سے وابستہ افراد اور مبینہ طور پر انتشار پسند عناصر کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔

آنند مادھو نے کہا، ’’ہماری مخالفت کانگریس پارٹی سے نہیں بلکہ بہار میں پارٹی کے موجودہ کرتا دھرتاؤں سے ہے۔ ہم کانگریس کے سچے سپاہی ہیں اور پارٹی کو بچانے کے لیے اپنی آواز دہلی تک لے کر آئے ہیں۔‘‘

مظاہرین کے چھ اہم مطالبات

مظاہرین نے کانگریس کی اعلیٰ قیادت کے سامنے چھ اہم مطالبات پیش کیے۔ ان میں راہل گاندھی سے فوری ملاقات کا وقت دینے، وفادار کانگریسیوں کے خلاف جاری نوٹس اور اخراج کی کارروائی واپس لینے اور انہیں تنظیم میں ان کی سابقہ حیثیت و ذمہ داری واپس دینے کا مطالبہ شامل ہے۔

اس کے علاوہ مظاہرین نے بہار کانگریس کے قومی انچارج کرشنا الاّوارو اور ریاستی صدر راجیش کمار (رام) کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تنظیم میں اعتماد کی بحالی اور نئے سرے سے تنظیم نو کی راہ ہموار ہوگی۔

مظاہرین نے ’’تنظیم سِرِجن‘‘ کے نام پر دیگر جماعتوں سے آنے والے افراد اور مبینہ مشتبہ یا فرضی ارکان کی بنیاد پر تنظیمی عہدے دینے کے عمل پر روک لگانے اور رکنیت و تقرریوں کی غیر جانب دارانہ جانچ کا بھی مطالبہ کیا۔

یادداشت میں تنظیمی اور سیاسی تقرریوں میں سماجی انصاف، علاقائی توازن، سینیارٹی، وفاداری اور زمینی سطح پر کیے گئے کام کو ترجیح دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی صداقت آشرم میں پارٹی کے وقار، نظم و ضبط اور جمہوری مکالمے کو بحال کرنے کی بھی مانگ رکھی گئی۔

آنند مادھو نے کہا کہ راہل گاندھی کے ’’ڈرو مت‘‘ کے پیغام سے حوصلہ حاصل کرتے ہوئے وہ پارٹی کے اندر کی حقیقی صورتحال کو سامنے رکھنے کی ہمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت بہار کانگریس کے معاملے میں اعلیٰ قیادت نے مداخلت نہیں کی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے مطالبات کسی ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ بہار کانگریس کو مضبوط بنانے، تنظیم میں جمہوریت بحال کرنے اور برسوں سے پارٹی کے لیے کام کرنے والے وفادار کانگریسیوں کا احترام واپس دلانے کے لیے ہیں۔

احتجاج میں سابق ارکانِ اسمبلی انیل سنگھ، چھترپتی یادو اور پونم دیوی، سابق ریاستی کانگریس نائب صدر جمال احمد بھلّو، سابق یوتھ کانگریس صدر و ریاستی کانگریس نائب صدر راج کمار راجن، سابق یوتھ کانگریس صدر ناگیندر پاسوان وِکل، سابق ریاستی کانگریس سکریٹری واصی اختر سمیت کئی سابق ضلعی صدور اور سینئر کانگریسی رہنما شریک ہوئے۔ احتجاج میں بہار کے مختلف اضلاع سے آئے سیکڑوں کانگریس کارکنوں نے بھی شرکت کی۔

گاندھی۔امبیڈکر کے نظریات کے ساتھ علی گڑھ سے سہارنپور تک مکالمہ یاترا، اقلیتی حقوق سمیت کئی مسائل پر عوامی رائے ہموار کی جائے گی

ہندوستانی جمہوریت میں اقلیتوں کی سیاسی شمولیت، تحفظ اور نمائندگی کے حوالے سے کانگریس کے

بہار کانگریس بچاؤ مہم: سیکڑوں کانگریس کارکنوں کا دہلی میں احتجاج، قیادت میں تبدیلی سمیت چھ مطالبات پیش

بہار کانگریس کی موجودہ صورتحال سے ناراض سابق ارکانِ اسمبلی، سابق ضلعی صدور، سابق ریاستی