
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران 24 جولائی کو قومی دارالحکومت نئی دہلی میں ملک کی ممتاز مسلم مذہبی، سماجی اور سیاسی قیادت کا ایک اہم قومی کنونشن منعقد ہونے جا رہا ہے۔ انڈین مسلم فار سول رائٹس (آئی ایم سی آر) کے بینر تلے مجوزہ اس کنونشن میں موجودہ قومی حالات، آئینی حقوق کے تحفظ، سماجی انصاف، تعلیم، سیاسی نمائندگی اور عوامی اہمیت کے دیگر امور پر تفصیلی غور و خوض کیے جانے کا امکان ہے۔
کنونشن کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعہ کے روز نئی دہلی کے نظام الدین علاقے میں آئی ایم سی آر کے صدر اور سابق رکنِ راجیہ سبھا محمد ادیب کی صدارت میں آرگنائزنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کنونشن کے ایجنڈے، طریقۂ کار، شرکاء کی شمولیت اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں سابق مرکزی وزیر اور انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (آئی آئی سی سی) کے صدر سلمان خورشید، سماجوادی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ محب اللہ ندوی، سابق رکنِ پارلیمنٹ دانش علی، سینئر صحافی اور سابق رکنِ پارلیمنٹ شاہد صدیقی، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کی قومی سیکریٹری عتیقہ ساجد، ایس ڈی پی آئی کی قومی مجلسِ عاملہ کے رکن اور اتر پردیش کے صدر ڈاکٹر نظام الدین خان سمیت مختلف مسلم سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
منتظمین کے مطابق مجوزہ کنونشن میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی، جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی، جماعتِ اسلامی ہند کے امیر انجینئر سید سعادت اللہ حسینی، معروف اسلامی اسکالر مولانا سجاد نعمانی، انڈین مسلم پبلک افیئرز کمیٹی (آئی ایم پی اے سی) کے صدر مولانا عبید اللہ خان اعظمی، اجمیر شریف درگاہ کے سجادہ نشین سرور چشتی، آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت، آل انڈیا ملی کونسل اور دیگر قومی مسلم تنظیموں کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور رکنِ پارلیمنٹ اسد الدین اویسی، کانگریس کے ارکانِ پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی اور عمران مسعود، سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ اقراء حسن سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مسلم ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی، سماجی کارکنان، ماہرینِ تعلیم، انسانی حقوق کے کارکنان اور سیکولر و ترقی پسند غیر مسلم شخصیات کی بھی شرکت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق کنونشن میں ملک کی موجودہ سماجی اور سیاسی صورتحال سے متعلق متعدد اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ ان میں آئین سے حاصل شدہ حقوق کا تحفظ، سماجی انصاف، تعلیم، سیاسی شمولیت، وقف سے متعلق امور، یکساں سول کوڈ، بلڈوزر کارروائیوں اور دیگر عصری مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم کنونشن کا حتمی ایجنڈا تقریب کے روز ہی باضابطہ طور پر پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
سابق رکنِ پارلیمنٹ محمد ادیب کی قیادت میں آئی ایم سی آر گزشتہ کئی برسوں سے شہری حقوق، جمہوری اقدار اور آئینی مسائل پر مکالمے کی مختلف پہل کرتا رہا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کنونشن کا مقصد کسی ایک تنظیم یا سیاسی جماعت کا پلیٹ فارم تیار کرنا نہیں، بلکہ مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی دھاروں کے درمیان مکالمے کو مضبوط بناتے ہوئے مشترکہ فہم اور اتفاقِ رائے کو فروغ دینا ہے۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران منعقد ہونے والا یہ کنونشن قومی سطح پر ایک اہم سیاسی اور سماجی پیغام دے سکتا ہے۔ کنونشن میں منظور ہونے والی قراردادوں اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر ملک کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی گہری نظر رہے گی۔