اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتہ کے روز ایودھیا میں ایک عوامی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی (ایس پی) اور کانگریس پر سخت سیاسی حملہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سماجوادی پارٹی کی حکومت کے دوران مندروں کی جائیدادوں اور عقیدت مندوں کے عطیات کا غلط استعمال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ مندروں میں چڑھایا جانے والا چندہ “مساجد کی دیواریں تعمیر کرنے” میں استعمال کیا جاتا تھا۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا “سماجوادی پارٹی مندروں پر قبضہ کر لیتی تھی اور عقیدت مندوں کے چندے کی رقم اپنی جیب میں ڈال لیتی تھی۔ مندروں میں چڑھایا گیا چندہ مساجد کی دیواریں بنانے پر خرچ کیا جاتا تھا۔”
وزیر اعلیٰ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایودھیا کے شری رام جنم بھومی مندر میں عقیدت مندوں کے عطیات میں مبینہ خرد برد اور مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ سیاسی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کر رہی ہے۔ پولیس اب تک کئی ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے اور تفتیش جاری ہے۔
‘رام مندر کی تعمیر بی جے پی کے عزم کا نتیجہ’
اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے رام مندر کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور سماجوادی پارٹی برسوں تک بھگوان رام کے وجود پر سوال اٹھاتی رہیں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے بعد ایودھیا میں شاندار رام مندر کی تعمیر ممکن ہو سکی۔
انہوں نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر کے بعد ایودھیا نہ صرف مذہبی عقیدت بلکہ سیاحت، سرمایہ کاری اور ثقافتی ورثے کا بھی اہم مرکز بن کر ابھرا ہے۔ ان کے مطابق ریاستی حکومت ایودھیا کی ہمہ جہت ترقی کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
ہنومان گڑھی کا بھی ذکر
یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے خطاب میں ہنومان گڑھی کا حوالہ دیتے ہوئے سماجوادی پارٹی پر خوشامدانہ سیاست کرنے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں ہنومان گڑھی کے احاطے میں نماز ادا کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس پر اپوزیشن کو جواب دینا چاہیے۔
چندہ تنازع کے درمیان سیاسی گرما گرمی
شری رام جنم بھومی مندر میں مبینہ چندہ خرد برد کے معاملے پر اتر پردیش کی سیاست میں الزام تراشیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ اپوزیشن مندر ٹرسٹ کے مالیاتی نظام اور شفافیت پر سوالات اٹھا رہی ہے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ چند افراد کی مبینہ ملوث ہونے کی بنیاد پر پورے ٹرسٹ کو ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں، اور قصورواروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل ایودھیا، رام مندر اور مذہبی عقیدے سے متعلق مسائل ایک بار پھر اتر پردیش کی سیاست کا مرکزی موضوع بنتے جا رہے ہیں۔
خبر لکھے جانے تک وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ان الزامات پر سماجوادی پارٹی اور کانگریس کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔