جمہوریت میں اختلافِ رائے اور پُرامن احتجاج کے حق کو آئین کی بنیادی روح قرار دیتے ہوئے بمبئی ہائی کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم فیصلے میں کہا کہ صرف حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے، دھرنا یا احتجاج منظم کرنے یا حکومت کے خلاف نعرے لگانے کی بنیاد پر کسی شہری کو ضلع بدر نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی کارروائی آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت حاصل اظہارِ رائے کی آزادی اور آرٹیکل 21 کے تحت باوقار زندگی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
جسٹس مادھو جمدار کی سنگل بنچ نے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے مہاراشٹر جنرل سکریٹری سعید احمد عبد الواحد چودھری کے خلاف جاری ایک سالہ ضلع بدری کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شہری کو مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت ضلع بدر کرنے کی قانونی بنیاد نہیں ہو سکتا۔
پانچ ایف آئی آر کی بنیاد پر کی گئی تھی کارروائی
عدالت کے سامنے پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق، سعید احمد عبد الواحد چودھری شہریت ترمیمی قانون ، گیان واپی مسجد تنازعہ اور مرکزی حکومت کے دیگر فیصلوں کے خلاف منعقد کیے گئے مارچوں اور دھرنوں میں سرگرم طور پر شریک رہے تھے۔ ان تحریکوں سے متعلق پانچ ایف آئی آر کا حوالہ دیتے ہوئے ممبئی پولیس نے 3 دسمبر 2025 کو انہیں ایک سال کے لیے ضلع بدر کر دیا تھا۔ بعد ازاں 27 مارچ 2026 کو کونکن ڈویژن کے ڈویژنل کمشنر نے بھی اس حکم کو برقرار رکھا تھا۔
ان دونوں احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے انتظامیہ کی کارروائی کو کالعدم قرار دے دیا۔
“کیا شہری حکومتِ ہند کے غلام ہیں؟”
سماعت کے دوران جسٹس مادھو جمدار نے پولیس انتظامیہ کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کئی اہم زبانی ریمارکس دیے۔
انہوں نے کہا “یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا شہریوں کو حکومتِ ہند کا غلام بنایا جا رہا ہے؟ کیا وہ احتجاج نہیں کر سکتے؟ کیا وہ تحریک نہیں چلا سکتے؟ اتنے پرچہ لیک کے واقعات ہو رہے ہیں۔ اگر لوگ اس کے خلاف احتجاج کریں تو کیا ان پر مقدمات درج کر دیے جائیں گے؟ احتجاج کرنا شہریوں کا آئینی حق ہے۔”
جج نے یہ بھی کہا کہ درخواست گزار نے صرف “بی جے پی سرکار مردہ باد” اور “امت شاہ مردہ باد” جیسے نعرے لگائے تھے۔
انہوں نے سوال کیا “شہری ایسے نعرے کیوں نہیں لگا سکتے؟ صرف ایسے نعرے لگانے کی وجہ سے کسی شخص کو ضلع بدر کیسے کیا جا سکتا ہے؟”
“پولیس عوام کی خادم ہے، حکومت کی نہیں”
جسٹس جمدار نے پولیس کے کردار پر بھی واضح تبصرہ کرتے ہوئے کہا “پولیس وزیرِ اعلیٰ یا وزیرِ اعظم کی خادم نہیں بلکہ عوام کی خادم ہے۔ اگر مناسب قانونی بنیاد کے بغیر اس طرح کی کارروائی کی گئی ہے تو متعلقہ افسران پر بھاری لاگت بھی عائد کی جا سکتی ہے۔”
تحریری حکم میں آئین کا حوالہ
اپنے تحریری حکم میں عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے اپنی سیاسی اور سماجی حیثیت کے تحت مرکزی حکومت کے بعض فیصلوں کی مخالفت کی تھی۔ صرف اس بنیاد پر کسی شخص کے خلاف ضلع بدری جیسی سخت کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے کہا کہ انتظامیہ کی کارروائی بادی النظر میں بدنیتی (مالا فائیڈ) پر مبنی معلوم ہوتی ہے اور اس سے آئین کے آرٹیکل 19 اور 21 کے تحت حاصل بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ہر شہری کو اپنی رائے کے اظہار، پُرامن طریقے سے احتجاج درج کرانے اور باوقار زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
سیاست پر بھی طنزیہ تبصرہ
سماعت کے دوران جسٹس جمدار نے مہاراشٹر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی طنزیہ تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دس سالہ بچے کی سڑک حادثے میں موت جیسے سنگین معاملے پر بحث کرنے کے بجائے اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کی توڑ پھوڑ اور اقتدار کے توازن پر بحث ہو رہی ہے۔
انہوں نے ہلکے انداز میں کہا “پورے مہاراشٹر میں ہارس ٹریڈنگ چل رہی ہے۔ آپ کے خلاف بھی کچھ ایف آئی آر ہیں۔ آپ بھی پارٹی بدلنے پر غور کر لیجیے، ایک ‘واشنگ مشین’ ہے۔”
تاہم، یہ تبصرہ عدالت کے باضابطہ حکم کا حصہ نہیں تھا بلکہ سماعت کے دوران کیا گیا زبانی ریمارک تھا۔
جمہوری اقدار کی توثیق
قانونی حلقوں میں اس فیصلے کو اظہارِ رائے کی آزادی، اختلافِ رائے کے حق اور جمہوری اقدار کی توثیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ حکومت پر تنقید کرنا یا اس کی پالیسیوں کا پُرامن احتجاج کرنا کسی جمہوری نظام میں جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر صرف اختلافِ رائے کی بنیاد پر شہریوں کے خلاف تعزیری کارروائی کی جاتی ہے تو یہ آئین کی بنیادی روح اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے منافی ہوگا۔