انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰن
چیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ)

اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے حالات ہیں کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بنگال جیت کر اور وہاں پر ٹی.ایم.سی کے جیتے ہوئے اراکین میں بھاری ٹوٹ سے خوش ہے، لیکن اس خوشی کے باوجود بی.جے.پی قیادت اپنے مستقبل کو لے کر بڑی فکرمند ہے کیونکہ ملک میں اب بنیادی موضوعات پر عوامی بحث چھڑ چکی ہے، چاہے وہ معاملہ مسلسل پیپر لیک، بے روزگاری اور تعلیم کے مہنگا ہونے کا ہو یا پھر مہنگائی کے عروج اور ملک کے معاشی طور پر کمزور ہونے کا۔

اِن حالات میں بار بار کوششیں ہو رہی ہیں کہ بحث کو بی جے پی کی روایتی پچ پر دھکیلا جائے، یعنی مسلمان مسلمان مسلمان کی بحث پر، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے مسلمان مسلمان مسلمان والے نکات پر بحث و ہنگامے کو کوئی خاص ردعمل نہیں مل رہا ہے۔

ایسے میں حکمراں جماعت بی جے پی کو نظر آتا ہے کہ مستقبل میں کنٹرول ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور اس کے باوجود کہ ملک کا پورا نظام ان کے ہاتھ میں ہے، پھر بھی کرسی کو بچائے رکھنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

اِن حالات میں ایک راستہ یہ بھی نظر آیا کہ حد بندی کے ذریعے لوک سبھا حلقوں کا پورا ڈیموگراف بدل دیا جائے، لیکن یہ بھی ناممکن دکھ رہا ہے کیونکہ ایک بار یہ بل پارلیمنٹ میں دھڑام ہو چکا ہے اور دوبارہ لانے کی تیاری میں بھی ضرورت کے مطابق ایک تہائی اراکین کی تعداد سے بی جے پی اور این ڈی اے دور ہیں۔

بنگال کے قریب 19 ٹی ایم سی ایم پیز کے آ جانے اور شیو سینا ادھو گروپ کے ایم پیز کے ٹوٹ کر آ جانے پر بھی ضروری تعداد سے حکومت دور ہی رہے گی۔

اِن حالات میں ایک جوش کانگریس اور کانگریس کے سب سے بڑے رہنما راہل گاندھی کے اندر نظر آ رہا ہے۔ پچھلے دنوں میں کانگریس نے ساؤتھ انڈیا کو اپنے مضبوط گڑھ کے طور پر تیار کرنے پر کام کیا ہے، جس میں کرناٹک میں کی گئی تبدیلی اور آندھرا پردیش میں جگن موہن ریڈی کو ساتھ لانے کی ہو رہی کوشش بھی شامل ہے۔

اس کے ساتھ ہی راہل گاندھی اُن ریاستوں پر بھی توجہ دیتے نظر آ رہے ہیں جہاں اُن کا براہِ راست مقابلہ بی جے پی سے ہے، جیسے راجستھان میں تیزی سے تبدیلی اور سچن پائلٹ کو کمان دینے کی ہو رہی تیاری۔

کانگریس نے انڈیا الائنس کو بھی دوبارہ فعال کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے، جس کی ایک میٹنگ 8 جون کو ہوئی اور آگے ہر دوسرے مہینے الائنس کی میٹنگ کا فیصلہ ہے۔

انڈیا الائنس کی میٹنگ میں ایک اہم بات یہ ہوئی کہ ٹی ایم سی کی شکست اور ٹی ایم سی میں ٹوٹ کے بعد انڈیا الائنس کی پارٹیاں اب کانگریس کو اور ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانے کے بجائے قدم سے قدم ملا کر چلنے کو تیار نظر آ رہی ہیں۔

دوسری اہم بات یہ ہوئی ہے کہ راہل گاندھی نے ایک واضح پیغام اپنے اتحادیوں، دیگر اپوزیشن جماعتوں، اپنی پارٹی کے لیڈران اور اراکین کو دے دیا ہے کہ موجودہ نظام کے خلاف اب مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔

راہل گاندھی کا یہ بیان ملک کی حقیقی سچائی کو قبول کرنا ہے کیونکہ آج بھارت کے موجودہ نظام میں بیٹھی طاقتیں ملک کی اب تک کی کانگریسی یا سماجوادی یا حتیٰ کہ بی جے پی حکومتوں کی طرح نہیں ہیں بلکہ آج کی حکومت میں ملک کا پورا نظام چند لوگوں اور ایک خاص نظریاتی گروہ کے ہاتھوں میں مرکزیت اختیار کر چکا ہے۔

آج ایگزیکٹو، عدلیہ اور ملک کی سکیورٹی ایجنسیاں تک ایک خاص طاقت کی نمائندہ نظر آتی ہیں اور تعلیمی نظام، میڈیا اور فلم انڈسٹری تک حکمراں جماعت اور ان کی نظریاتی تنظیموں کے ٹول کٹس کی طرح کام کرتے نظر آتے ہیں۔

ملک میں الیکشن سسٹم پر اب شک و شبہات کا داغ نہیں رہا بلکہ کھلے طور پر یہ نظر آنے لگا ہے کہ الیکشن کمیشن اب بس حکمراں جماعت کو جتوانے کے لیے کام کر رہا ہے اور تمام حدود و ضابطوں کو توڑ کر اس کام میں لگا ہے۔

ایسے وقت میں راہل گاندھی کا اس سچائی کو قبول کر لینا اور مزاحمت کا اعلان کرنا بڑی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مزاحمت اور قربانیاں ہی اب اس ملک میں آئین کی بالادستی کو بچائے رکھ سکتی ہیں اور یہی ایک راستہ ہے اپوزیشن کی تمام جماعتوں اور اُن کے رہنماؤں و اراکین کے سیاسی مستقبل کو بچائے رکھنے کا بھی۔

لیکن مزاحمت صرف ’’آئین بچاؤ‘‘ کے نام سے کانفرنسیں کرنے کا نام نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے شہر کی سڑکوں سے لے کر گاؤں کی گلیوں تک تحریک کھڑی کرنی ہوگی۔

اس کے لیے بنیادی ضرورت ہے مضبوط ٹیم کی، جس کے لیے پہلے دو بڑے اقدامات کرنے ہوں گے۔ پہلا قدم وہ ہے جس کی دعوت شیو سینا ادھو کے رہنما سنجے راوت نے دی ہے کہ وہ پارٹیاں جو کانگریس سے نکلی تھیں، وہ واپس کانگریس میں آ جائیں، جیسے بنگال کی ٹی ایم سی، مہاراشٹر کی این سی پی اور آندھرا پردیش کی وائی ایس آر سی پی۔

یہ انضمام بڑے پیمانے پر کرنا ہوگا اور کانگریس کو ایک ٹیم بنا کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لگنا چاہیے کہ ایسی تمام پارٹیاں جو کانگریس سے نکلی ہیں، اُن کی قیادت کو منا کر اور احترام کے ساتھ واپس لا کر اُن کی پارٹی کا انضمام کرایا جائے۔

ساتھ ہی ایسی اور بھی بہت سی پارٹیاں ہیں جو چھوٹے چھوٹے علاقوں میں اپنا محدود اثر رکھتی ہیں لیکن اُن کی کوئی واضح نظریاتی بنیاد نہیں ہے، اُن کو بھی کانگریس میں لانے کی کوشش کی جائے، جیسے این سی پی شرد کے آنے کے ساتھ ہی این سی پی اجیت گروپ پر بھی محنت کی جائے۔

کیونکہ یہی راستہ ہے خود اُن پارٹیوں کے وجود اور اُن کے رہنماؤں و کارکنان کے سیاسی مستقبل کے تحفظ کا، اور ایسا کرنے سے کانگریس میں وہ دم آ سکے گا جو موجودہ نظام کے خلاف مزاحمت کے لیے ضروری ہے۔

اس کے علاوہ ملک میں موجود درجن بھر سے زیادہ کمیونسٹ پارٹیوں کو بھی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) میں انضمام کرنا ہوگا اور اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو اس ملک سے بائیں بازو کی جماعتوں کا وجود ختم ہو سکتا ہے اور ملک میں آئین کے تحفظ کی لڑائی بھی کمزور پڑی رہے گی۔

لہٰذا سی پی آئی (ایم) کو اس پر کام شروع کر دینا چاہیے کہ چھوٹے اختلافات کو اندرونی مباحث کے لیے چھوڑتے ہوئے مشترکہ نظریہ اور ملک کے مفاد کے لیے وہ لیفٹ الائنس، جو کئی دہائیوں بعد ملک بھر کی ریاستی اقتدار سے باہر ہے، اب اتحاد اور بکھری ہوئی کمیونسٹ قوت کے بجائے ایک مضبوط کمیونسٹ پارٹی میں تبدیل ہو جائے۔

اسی طرح راشٹریہ جنتا دل، سماجوادی پارٹی، انڈین نیشنل لوک دل، بیجو جنتا دل اور آر ایل پی جیسی سماجوادی فکر رکھنے والی جماعتیں بھی وی پی سنگھ کے دور جیسا بڑا قدم اٹھاتے ہوئے خود کو متحد کریں اور ملک میں قومی سطح کی ایک مضبوط سماجوادی پارٹی کھڑی کرنے کی سمت قدم بڑھائیں، جس میں داخلی وفاقی نظام مضبوط ہو اور سب کے مفادات محفوظ رہیں۔

یہ ضروری ہے تاکہ ملک میں سماجوادی تحریک اور سماجوادی فکر کا مستقبل باقی رہے، ورنہ شاید بی جے پی سیاست اور اینٹی بی جے پی سیاست کی ہوا میں سماجوادی وراثت بہہ کر ختم ہو جائے۔

ساتھ ہی ان کا انضمام سماجوادی پس منظر رکھنے والے رہنماؤں اور کارکنان کے سیاسی مستقبل کے تحفظ اور ملک کے مستقبل کے لیے بھی ضروری ہے۔

اسی طرح ضروری ہے کہ تمل ناڈو میں وجے نے جب اپنی نظریاتی لائن دراوڑی سیاست کو بتایا ہے تو وہاں پر ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے خلاف بنی چھوٹی چھوٹی دراوڑی جماعتوں اور ایس سی/ایس ٹی اور عیسائی سماج کی پارٹیوں کا انضمام اپنی پارٹی ٹی وی کے میں کرا کر اور اے آئی اے ڈی ایم کے سے نکلے گروپس اور ناراض رہنماؤں کو ٹی وی کے میں لا کر اپنی قیادت میں ایک مضبوط دراوڑی جماعت کھڑی کرے۔

ملک میں بی ایس پی کا وجود تقریباً ختم ہے اور اس کے متبادل کے طور پر ایم پی چندر شیکھر آزاد کی پارٹی آزاد سماج پارٹی اپنی زمینی اور عوامی گرفت مضبوط کرتی جا رہی ہے، لیکن اس وقت کی حقیقت یہ ہے کہ ملک میں دلت سیاسی قیادت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

لہٰذا ایسے میں ضروری ہے کہ آزاد سماج پارٹی، پرکاش امبیڈکر کی ونچت بہوجن اگھاڑی، بہوجن مکتی پارٹی سمیت بامسیف کے مختلف گروہوں کے سیاسی ونگ اور تمل ناڈو کی وی سی کے وغیرہ ساتھ بیٹھیں اور ایک جھنڈے کے تحت ملک میں ایک مضبوط امبیڈکر وادی سیاسی جماعت کی تشکیل کریں۔

ضرورت ہے کہ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی پارٹی آگے بڑھ کر بھارتیہ آدیواسی پارٹی اور بھارتیہ ٹرائبل پارٹی جیسی ملک بھر میں پھیلی آدیواسی سماج کی چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ بیٹھے اور سب کو احترام کے ساتھ ایک پارٹی کے جھنڈے تلے جمع کر کے ایک آدیواسی جماعت کھڑی کرے، جس کی کوشش ہیمنت کر بھی رہے ہیں۔

مسلم سماج میں سیاسی بیداری آئی ہے لیکن مضبوط سیاسی جماعت موجود نہیں ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ ایس ڈی پی آئی، آئی ایس ایف، اے آئی یو ڈی ایف، پیس پارٹی، علماء کونسل، آئی ایم سی، ایم ایم کے، آئی این ایل، ایم بی ٹی، ڈبلیو پی آئی، این ایل، مسلم مجلس وغیرہ ساتھ بیٹھیں اور کوشش کریں کہ سب ضم ہو کر ایک مضبوط سیاسی جماعت تشکیل دیں جس کی واضح نظریاتی بنیاد ہو اور جس کے پاس مضبوط وژن، روڈ میپ، تنظیمی ڈھانچہ اور کیڈر سسٹم ہو۔

اس انضمام کی کوششوں میں سنجے راوت جی کو چاہیے کہ وہ بھی منصوبہ تیار کریں کہ کس طرح نہ صرف اپنی شیو سینا (ادھو) کو ٹوٹنے سے بچائے رکھیں بلکہ شیو سینا (شندے) کو این ڈی اے سے واپس لا کر اور راج ٹھاکرے کو منا کر ادھو ٹھاکرے، شندے اور راج ٹھاکرے کی ایک مضبوط شیو سینا قائم کریں۔

ساتھ ہی ادھو ٹھاکرے ٹیم کو چاہیے کہ وہ ہندوتوا کی ازسرِ نو تعبیر کرے، یعنی آر ایس ایس اور بی جے پی کے ہندوتوا کے مقابلے میں ایک ایسے ہندوتوا کا خاکہ پیش کرے جس میں ورنا سسٹم کو مسترد کیا گیا ہو، جس میں خواتین کو مکمل احترام حاصل ہو، جس میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے نفرت نہ ہو، جس میں بھارت کے سیکولر، ڈیموکریٹک، سوشلسٹ آئین کے لیے مکمل جگہ ہو، اور جس میں مہاتما گاندھی کے افکار کو اہمیت حاصل ہو۔

ایسے ہندوتوا کو سامنے لانے کے لیے شیو سینا کو باقاعدہ کام کرنا چاہیے، مذہبی رہنماؤں کے ساتھ بیٹھ کر تحقیق پر مبنی لٹریچر تیار کرنا چاہیے، اور ساتھ ہی مہاراشٹر اسمیتا کی سوچ کو دوبارہ زندہ کرنا چاہیے، لیکن یہ خیال رکھتے ہوئے کہ مہاراشٹر اسمیتا اور بھارتییتا ساتھ ساتھ چلیں، اور انہی ہندوتوا اور مراٹھا اسمیتا کے نظریات کی بنیاد پر دوبارہ اپنے کیڈر کو کھڑا کرنا چاہیے۔

یہ پہلی ضرورت ہے بھارت کی کہ بڑے پیمانے پر ایسے انضمام دیکھنے کو ملیں جن سے کمزور جماعتیں ختم ہو کر مختلف نظریات کی مضبوط سیاسی جماعتیں ملک میں ابھر کر سامنے آئیں، اور یہ ناممکن نہیں بلکہ ممکن ہے، جس کی مثالیں بھارت کی سیاست میں موجود ہیں اور اس پر خاموش سطح پر تمام سیاسی جماعتوں میں گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے۔

انضمام کے ساتھ دوسری اہم ضرورت حقیقی اتحاد کی ہے۔

انڈیا اتحاد جب سے بنا ہے تب سے اُس میں حقیقی اتحاد نظر نہیں آیا، اس کے باوجود 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن صرف تقریباً 45 نشستیں این ڈی اے سے کم جیت سکی اور قریب 30 نشستوں سے ہی حکومت بنانے سے چوک گئی۔ اگر جے ڈی یو اور لوک دل نے ساتھ نہ چھوڑا ہوتا تو یقینی تھا کہ 2024 میں ملک میں اقتدار بدل چکا ہوتا۔

لیکن اب جبکہ 2029 کی لڑائی درپیش ہے تو حقیقی اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جس میں ایک طرف انڈیا اتحاد میں موجود تمام جماعتوں کے درمیان مرکزی سطح پر مربوط نظام بنایا جائے اور ساتھ ہی ایک وفاقی ڈھانچہ بھی تیار کیا جائے تاکہ یہ اتحاد ریاستوں کے اندر بھی اور گاؤں گاؤں کے کارکنوں کے درمیان بھی قائم ہو سکے۔

اس میں ایک بات یقینی بنائی جائے کہ آئندہ تمام بلدیاتی اور ریاستی انتخابات بھی انڈیا اتحاد ایک اتحاد کے طور پر لڑے اور ’’فرینڈلی فائٹ‘‘ جیسی حکمتِ عملی کو ختم کیا جائے، سوائے کیرالہ اور تمل ناڈو جیسے چند مخصوص ریاستوں کے۔

ساتھ ہی مسلسل کیڈر ورکشاپس، عوامی پروگرام اور مزاحمتی احتجاج مشترکہ طور پر منعقد کیے جاتے رہیں اور ہر ریاست میں لوک سبھا حلقوں تک یہ عمل پہنچایا جائے۔

یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ انڈیا اتحاد کی تمام جماعتوں کے کارکن اور رہنما بالکل اسی طرح مل کر جدوجہد کریں اور عوامی بیداری کا کام کریں جیسے ایک خاندان کے افراد اپنے گھر کے کسی خاص موقع پر مل کر کام کرتے ہیں۔

اتحاد کے معاملے میں دوسری اور اہم ترین بات یہ ہے کہ موجودہ حالات میں انڈیا اتحاد کی جماعتیں اپنے غرور کو توڑیں اور نئے تمام اہم ساتھیوں کے لیے دروازے کھول کر پوری کوشش کریں کہ جلد از جلد اس اتحاد میں نوین پٹنائک، سکھبیر سنگھ بادل، ابھیے سنگھ چوٹالہ، چندر شیکھر آزاد، تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے، پرکاش امبیڈکر، بدرالدین اجمل، نوشاد صدیقی، ایم کے فیضی، ڈاکٹر ایوب، عامر رشادی، ایم ایل اے جواہر اللہ، پروفیسر سلمان، چھوٹوبھائی وساوا، ایس کیو آر الیاس اور ان جیسے دیگر دلت، آدیواسی، مسلم، عیسائی، کمیونسٹ، سکھ اور سماجوادی لیڈران کی قیادت والی جماعتوں کو اتحاد میں شامل کیا جائے۔

تاکہ سڑک سے لے کر انتخابات تک ایک حقیقی اجتماعی مزاحمت قائم کی جا سکے، ورنہ آپ کا غرور اور عدمِ تحفظ پر مبنی یہ غیر ضروری احتیاط آپ کو بھی لے ڈوبے گی اور ملک کے جمہوری نظام کو بھی۔

اور یہ اتحاد ناممکن نہیں ہے کیونکہ ریاستوں کے اندر مختلف اوقات میں انڈیا اتحاد کی موجودہ جماعتیں اِن جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہیں۔

انضمام اور اتحاد کی اس پالیسی پر فعال طور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کوئی بھی لڑائی بغیر کیڈر اور تنظیم کے نہیں لڑی جا سکتی ہے۔

اور آج جو ہمارے ملک کی حکمراں جماعت بی جے پی ہے، اُس کی سب سے بڑی طاقت اُن کی اور اُن کی مادر جماعت آر ایس ایس اور اُن کی ذیلی جماعتوں کی مضبوط تنظیم اور گاؤں گاؤں تک پھیلا ہوا اُن کا کیڈر نظام ہے۔

لیکن اپوزیشن کی اکثر جماعتیں اس معاملے میں صرف پیچھے نہیں بلکہ بہت پیچھے ہیں۔

لہٰذا ضروری ہے کہ یہ تمام جماعتیں پنچایت سطح تک مضبوط تنظیم بنانے پر جنگی انداز میں کام کریں، بالکل ویسے جذبے کے ساتھ جیسے ایران امریکہ سے اور غزہ کے فائٹرز اسرائیل سے لڑتے ہیں۔

پارٹی تنظیم کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے یوتھ ونگ، اسٹوڈنٹ ونگ، ویمن ونگ اور لیگل ونگ کو بھی اچھی طرح فعال کریں۔

انڈیا اتحاد کے لیے چوتھی اہم ترین ضرورت نظریے پر کام کرنا ہے۔

سیاست میں نظریہ سب سے بنیادی اور سب سے اہم طاقت ہوا کرتا ہے۔ بغیر نظریے کے سیاست ممکن ہی نہیں ہے۔

آج بھارتیہ جنتا پارٹی اتنی طاقتور اس لیے ہوئی کہ اُس نے اپنے نظریے ہندوتوا پر محنت کی، اُسے گھر گھر تک پہنچایا، اُس کی بنیاد پر کیڈرز کی تربیت کی اور اُسی بنیاد پر عوامی متحرکیت تیار کی، اور حکومتی پالیسیاں بھی اسی بنیاد پر بنائیں۔

لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے عوامی طبقات تیار ہوئے جو دو ہزار روپے میں گیس خرید کر بھی بی جے پی کو ووٹ دیں گے، جیسے بیانات دیتے نظر آتے ہیں۔

اگر اپوزیشن کی بات کی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ نظریے سے خالی ٹی ایم سی کے ایم پیز اور ایم ایل ایز ریت کی دیوار کی طرح ڈھہ گئے، لیکن ایک مضبوط نظریاتی پس منظر رکھنے والی جماعتیں جیسے آر جے ڈی اور سماجوادی پارٹی انتخابی شکست کے باوجود قائم ہیں اور اُن کے ایم ایل ایز اور ایم پیز اپنے قائدین کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔

اس کے باوجود کہ آج آر جے ڈی اور سماجوادی پارٹی جیسی جماعتیں بھی اپنی بنیادی نظریاتی شناخت کو دھندلا چکی ہیں، پھر بھی بنیاد میں نظریے کی مضبوط گرفت ہونے کی وجہ سے اُن کی دیواریں باقی ہیں اور چھت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔

لہٰذا ضروری ہے کہ جن جماعتوں کی اپنی کوئی واضح نظریاتی بنیاد نہیں ہے، جیسے این سی پی اور ٹی ایم سی وغیرہ، وہ اپنے اُس گھر میں واپس جائیں جہاں سے وہ نکلی تھیں۔

اور جن کی نظریاتی بنیاد موجود ہے، وہ فوری طور پر سیاسی ماہرین اور نظریاتی دانشوروں کی ٹیم تیار کر کے اپنے ہر ایم پی، ایم ایل اے، ایم ایل سی اور اپنی قومی کمیٹیوں سے لے کر پنچایت سطح تک کی کمیٹیوں کی نظریاتی تربیت پر کام شروع کر دیں۔

اور یہ کام اس انداز میں ہونا چاہیے کہ کوئی ایک دن بھی ایسا نہ گزرے جس دن ایک درجن یا ڈیڑھ درجن نظریاتی اور قیادتی تربیتی ورکشاپس نہ ہو رہی ہوں۔

نظریاتی خط پر واضح کام شروع کرنے سے ان جماعتوں میں موجود سنگھ کے سلیپر سیلز نقصانات گنوانے لگیں گے اور بعض ناتجربہ کار کارکن بھی اُن کی باتوں کو لیکر بحث کریں گے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ آپ کا وجود، آپ کی جماعت کا وجود اور ملک کے جمہوری نظام کا مستقبل اسی میں پوشیدہ ہے۔

یہ چاروں کام، یعنی انضمام، اتحاد، کیڈر سازی و تنظیم سازی، نظریاتی وضاحت اور نظریاتی تربیت، انڈیا اتحاد اور اُس کی جماعتوں کے لیے ویسے ہی ضروری ہیں جیسے ایک انسان کے لیے پانی، خوراک اور ہوا ضروری ہوتے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ کانگریس قیادت، انڈیا اتحاد کی تمام جماعتوں کی قیادت اور اپوزیشن کی تمام جماعتیں اِن تمام نکات پر جتنی جلدی ہو سکے کام شروع کر دیں۔

آخر میں اِن تمام نکات کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں بٹھا لینے کی ہے کہ راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں جو بات کہی کہ “آزادی سے پہلے کانگریس نے جس مضبوطی کے ساتھ مزاحمت کا راستہ اختیار کیا تھا، آج بھی وہی راستہ اپنانا ہوگا” یہ آج کے وقت کی وہ حقیقت ہے جسے قبول کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

لہٰذا آپ کو ایک ایک ہیٹ کرائم کے معاملے میں مجرم کے خلاف سڑک سے لے کر پولیس اسٹیشن اور عدالت تک لڑنا ہوگا۔

آپ کو ایک ایک نقصان دہ پالیسی کے خلاف ایوان میں متحد آواز اٹھانی ہوگی، میڈیا میں ایک زبان بولنی ہوگی اور سڑک پر احتجاج کرنا ہوگا۔

آپ کو عوام کے درمیان مسلسل بیداری مہمات چلاتے رہنا ہوگا اور آپ کو ملکی سطح پر مہنگائی، بے روزگاری، پیپر لیکس، دلتوں، آدیواسیوں، عیسائیوں، مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کے خلاف ہونے والے ہیٹ کرائمز، اُن کے خلاف بنائی جا رہی پالیسیوں، عصمت دری، جرائم، بدعنوانی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ملک کے معاشی نظام کی تباہی جیسے موضوعات پر مزاحمتی تحریک کھڑی کرنی ہوگی۔

اور ایسی تحریک جس میں لوگ جیلوں اور قربانیوں کے لیے تیار ہو کر نکلیں اور جدوجہد کرتے رہیں، یہاں تک کہ ملک میں نظام کی تبدیلی یقینی نہ ہو جائے۔

saifurbihari143@gmail.com
9540926856

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان

خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری کو ملی نئی قیادت، اردو ادب کے ممتاز محقق پروفیسر زاہد الحق ڈائریکٹر مقرر

ممتاز اردو اسکالر، شاعر اور نقاد پروفیسر زاہد الحق نے آج تاریخی اور قومی اہمیت