بشیر بدر کی یاد میں:مشاعرے پانی کی قبریں ہیں (دوسری قسط)، از: صفدر امام قادری، شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

بشیر بدر کی عوامی مقبولیت مشاعروں کی وجہ سے قائم ہوئی ۔ان کے اشعار بڑی تعداد میں غیر اردو داں لوگوں کے بیچ زبان زد رہے، یہ بھی مشاعروں کے سبب ممکن ہوا۔جس زمانے میں بشیر بدر نے مشاعروں کے توسط سے اپنی شناخت قائم کی،اس دور میں اسٹیج پر بڑے بڑے شعرا جنہیں ادبی وقار بھی حاصل تھا ، نظر آ جاتے تھے ۔بیکل اتساہی ،غلام ربانی تاباں ،علی سردار جعفری ، کیفی اعظمی ، مجروح سلطانپوری، اختر الایمان جیسے ترقی پسند شعرا اپنی خالص ادبی شاعری کی وجہ سے اسٹیج پر موجود تھے ۔ جدید شعرا میں عزیز قیسی ،قاضی سلیم ،ندا فاضلی ، شہریار،وحید اختر ،شاذ تمکنت، زبیر رضوی،سلطان اختر ، حسن نعیم ،مظہر امام ،والی آسی،عرفان صدیقی ،مخمور سعیدی وغیرہ مشاعروں کی بزم میں موجود تھے۔چند پرکاش جوہر بجنوری ، حیات وارثی ، اظہر عنایتی ،حبیب ہاشمی ، ساغر اعظمی اور وسیم بریلوی بھی اسی قافلے کا حصہ تھے ۔ راحت اندوری ،منور رانا تک آتے آتے یہ فہرست مکمل ہو جاتی ہے ۔ ان میں سے شاید ہی کسی کے بارے میں یہ الزام عائد ہو کہ ان کے اشعار دوسروں کے کہے ہوئے ہیں ۔اس وقت تک مشاعروں میں حقیقی شعرا کی ہی شمولیت ہوتی تھی اور محدود پیمانے پر شاعرات ، ہندی رسم ِ خط میں لکھ کر اپنا کلام پیش کرنے والے لوگ ابھی مشاعرے کے مرکزی منچ تک نہیں پہنچے تھے۔

اس دور میں لوگ مشاعروں میں ٹیپ رکارڈر لے کر پہنچتے اور اپنے مقبول شعرا کا کلام محفوظ کرتے جس سے ان کا کلام گھرگھر پہنچ سکا۔جدیدیت کے ابتدائی زمانے میں ہی غزل گائکی نے بھی اردو کے بعض شعرا کو مقبول بنایا ۔اولاً مہدی حسن اور پھر غلام علی نے غزل گائکی کو اچھی اور معیاری شاعری کی پیغام رسانی کے لیے آزمایا ۔ناصر کاظمی ، ابن ِ انشا اور احمد فراز کے کلا م کو گھر گھر پہنچنے کا موقع ملا ۔ ہندستانی گائکوں میں جگجیت سنگھ ، انوپ جلوٹا ، پنکج اداس ، چندن داس اور طلعت عزیز نے جدیدیت کے علمبردار شعرا کو مزید مقبولیت عطا کی ۔ ناصر کاظمی اور ندا فاضلی کی طرح تو نہیں مگر بشیر بدر کے کلام کو مختلف موسیقاروں نے دو ر دور تک پہنچایا ۔ ہمیں یہ یاد ہونا چاہیے کہ 1960کے بعد کے مشاعرے اور غزل گوئی نے جدید رموز و علائم اور خاصے مختلف استعاروں کو عوامی شعر فہمی کا حصہ بنایا ۔ کلاسیکی اردو غزل کو سمجھنے والے بڑی تعداد میں پیدا ہو چکے تھے مگر نئی غزل کے انجانے لفظوں اور انجانے مضامین کو عوامی سطح پر شاید ہی سراہا جاتا ۔ ایک دشواری یہ بھی تھی کہ جدیدیت کے نقاد رسائل کے صفحے سے نکلنے کے لیے تیار نہیں تھے ۔ایسی حالت میں بشیر بدر اور ان کی نسل کے شعرا کو سمجھنے والے مشاعروں کی بھیڑ سے اور اپنے گھروں میںمہدی حسن اور غلام علی یا جگجیت سنگھ کے حوالے سے جاننے والی ایک بڑی آبادی نے سہارا دیا ۔

ترقی پسند شعرا ہی نہیں، نثر نگار بھی عوامی مقبولیت میں پورے طور پر کامیاب رہے ۔بشیر بدر اور نقیب کے طور پر ملک زادہ منظور احمد کی با اثر موجودگی نے رسائل کے شعرا کو منچ پر نہ صرف یہ کہ پہنچایا بلکہ ان کی مقبولیت کے ضامن بھی بنے ۔
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
یا
دل کی بستی پرانی دلی ہے
جو بھی گزرا ہے، اس نے لوٹا ہے

جیسے شعر بھلا کس طرح ماحول سازی کے بغیر سمجھے جا سکتے تھے۔ملک زادہ منظور احمد نظامت میں جدیدیت کی پوری تاریخ پیش کر دیا کرتے تھے ۔ ان کی یہ بھی کوشش ہوتی کہ جدید شاعروں کو ان کے اسلوبیاتی اور موضوعاتی اختصاص کے ساتھ عوام تک پہنچایا جائے ۔اس عہد کے جدید شعرا جو مشاعروں میں کامیاب ہو سکے ، ان کے لیے ملک زادہ منظور احمد کی ماحول سازی کامیابی کا حقیقی حربہ تھی ۔ یہ کہنے کی بات نہیں کہ 1970کے بعد کے مشاعروں کے سب سے زیادہ پھل پھو ل بشیر بدر کے حصے میں آیا ۔

بشیر بدر صورت شکل سے پُر کشش تھے ۔لباس کا خاص خیال رکھتے تھے ۔قد ملک زادہ کی طرح تو نہیں تھا مگر دوسروں سے نکلتے ہوئے معلوم ہوتے تھے ۔اوپر کے دانت ذرا نکلے ہوئے تھے مگر کھڑے ہو کر جب شعر پڑھتے تھے تو اس کا ایک مداوا انھوں نے ڈھونڈ لیا تھا ۔ آدھے جسم سے دوہرے ہو کر وہ کھڑے ہوتے ،اکثر اپنے ہاتھ یا کم از کم ایک ہاتھ پیٹھ کے کوبڑ ہوتے انداز پر رکھ لیتے ۔ پڑھتے وقت یا داد کے بیچ کی خاموشی میں ان کے با ہر نکلے ہوئے دانت کبھی بد نما معلوم نہیں ہوتے ۔حسب ضرورت جب تک سر پہ بال بچے رہے، انہیں وہ رہ رہ کر جھٹک لیتے جس سے ایک پُر اثر کیفیت پیدا ہو جاتی ۔مائک کے ساتھ اس انداز سے کھڑے ہونے کی نقل مشاعروں میں اب تک لوگ کرتے رہتے ہیں مگر بشیر بدر کی شاعری اور ان کی مقبولیت وہ کہاں سے لے آئیں ۔

1980کے بعد بشیر بدر کی مقبولیت نصف النہار تک پہنچ چکی تھی ۔ ہندستانی مشاعروں میں بھی ان پر ہُن برسنے لگا تھا لیکن خلیج کے ملکوں کے مشاعروں اور گاہے بہ گاہے امریکہ یا دوسرے ممالک کے مشاعروں سے ریال اور ڈالر بھی بڑی مقدار میں ہمارے شعرا کی گانٹھ میں آئے ۔ وہ دَور تھا جب بشیر بدر کے ہاتھ میں پارس پتھر تھا ؛جس لفظ کو چھو دیں، وہ سونا ہو جائے ۔ ہمارے بزرگ شعرا میں کوئی عینک بیچتا رہ گیا تھا تو کوئی رکشہ چلا کرگزارا کرتا تھا ۔ یہ بات کسے معلوم تھی کہ مشاعروں کی وجہ سے زندگی میں ٹھاٹ باٹ آ سکتی ہے۔ ہندستان میں بشیر بدر وہ پہلے شاعر تھے جنھوں نے مشاعروں سے مالی منفعت کے دروازے وا کیے ۔ بعد میں انہیں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے وسیم بریلوی ، منور رانا ، راحت اندوری کامیاب ہوئے ۔ گذشتہ دو دہائیوں میں مشاعروں میں معاوضے کی رقم بھی بڑھی جس کا پھل پھول اب نئے شعرا زیادہ پا رہے ہیں ۔ شکیل اعظمی اور عمران پرتاپ گڑھی عہدِ حاضر کے شعرا میں مشاعروں سے بہتر معاوضہ حاصل کرنے کے لیے پہچانے جاتے ہیں ۔ بشیر بدر نے جو مشاعرے میں مالیت کا پودا لگایا تھا، اس کے بہتر پھل پھول آج کے شعرا حاصل کر رہے ہیں ۔

بشیر بدر کے اشعار اچھے خاصے تہہ دار اور کثیر المعانی رہے ہیں جس سے ان کا ادبی اور علمی اعتبار قائم ہوا ۔ان میں دوسرے شعرا کے بر عکس ایک خطیبانہ صلاحیت بھی تھی ۔ ایک مدت تک درس و تدریس میں رہنے اور بہترین اساتذہ سے درس حاصل کرنے کی وجہ سے ان میں تعبیر و تشریح کی صلاحیت بھی خوب خوب تھی ۔ کبھی کبھا ر وہ مشاعروں کی نظامت کے دوران اپنی اس تقریری صلاحیت کا پتا دیتے تھے مگر شہرت کی بلندی تک پہنچنے کے بعد شعر پڑھنے کے دوران ایک ایک شعر کی تشریح کرنا اور اپنے اوصاف وکمالات بتانا بشیر بدر کے شعر پڑھنے سے ہم آہنگ ہو گئے ۔پرانے شعرا میں فراق گورکھپوری کے بارے میں یہ کہا جاتا تھاکہ وہ جب تک اپنے ایک ایک مصرعے کے فضائل بیان نہ کر لیں اور مشرقی اور مغربی شعرا کے شعروں سے موازنہ کر کے اپنی برتری ثابت نہ کر دیں ، وہ مطمئن نہ ہو سکتے تھے ۔ بشیر بدر نے شعر پڑھنے کے ساتھ تقریر کو پیشہ بنا لیا اور چالیس منٹ میں بیس منٹ شعر گوئی کے لیے اور اسی قدر تقریر کے لئے میعاد متعین کیا ۔ مشاعروں میں آج شعر سے زیادہ لطیفے ، تقریریں اور اپنے کوائف بیان کرنے کا جو مشغلہ ہر قابلِ ذکر شاعرنے اپنا رکھا ہے ، اس بدعت کا آغاز بشیر بدر کی ہاتھوں ہوا تھا ۔

بشیر بدر نے ان تقریروں کا نفس مضمون اپنے کمالات تک محدود رکھا ۔ ساری ادبی دنیا انہیں جس لگن اور محبت سے سن رہی تھی، اس سے انااور تکبرکی بنیادیں اپنے آپ پیدا ہو جائیں گی ۔1980کے بعد بشیر بدر کا ایک انٹرویو ہندو پاک میں شائع ہوا جس میں انھوں نے اردو کے تین شاعروں میں اپنے ساتھ میر اور غالب کا شمار کیا تھا ۔ شہرت کے نشے میں اب یہ باتیں آئے دن سامنے آنے لگی تھیں ۔ مشفق خواجہ نے اپنے ایک مضمون میں ایک پھبتی کسی کہ غالب اور میر کے نام گنتی پوری کرنے کے لیے گئے تھے،مقصود تو اپنا نام پیش کرنا تھا ۔پٹنہ کی ایک مجلس میں بشیر بدر نے بتایا کہ جس طرح میر کے بہتر نشتر مشہور ہیں، اسی طرح ان کے بھی دو چار کم یا زیادہ اشعار لا زوال شعروں کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں ۔ 1987میں’ آمد ‘ شعری مجموعے کی اشاعت کے ساتھ یہ دھماکہ بھی ہوا کہ وہ 2035 کے قارئین سے مخاطب ہیں ۔ اس زمانے میں اس بات کی تشریح وہ اس طرح کرتے تھے کہ ان کی شاعری کا ایک ایک لفظ عصر ِحاضر کے قارئین کے دل میں اُتر چکا ہے جس کا وہ اپنی مقبولیت سے جواز پیش کرتے تھے ۔ انہیں اندازہ تھا 2035یعنی ان کی پیدائش کے 100 سال کے مکمل ہونے کے عرصے تک ان کی مقبولیت اور ادبی شناخت پھیلی ہوئی رہے گی، اسی لیے انھوں نے نئی صدی کے قارئین کو مخاطب کیا ۔

بشیر بدر اپنی مقبولیت کے گنبدِ بے درمیں کچھ اس طرح سے قید ہوئے کہ انہیں اس سے نکلے کی مہلت نہیں ملی ۔ وہ بے دریغ کسی نہ کسی بہانے اپنے مجموعی شعری سرماے کو کبھی دس ہزار ،کبھی بیس تیس ہزار شعروں پر مشتمل قرار دیتے رہے۔ کئی بار صحافیوں اور کئی دوسرے شعرا نے ٹوکا مگر شہرت کی بلندی پر رہتے ہوئے انہیں پتا ہی نہیں چلا کہ سو سو صفحے کے جو تین چار مجموعے ہیں، ان میں موجود اشعار کوبیس تیس ہزار کی گنتی تک کیسے پہنچایا جا سکے گا ۔ زندگی میں کئی اداروں نے ان کے کلیات شائع کیے ، ان کا سارا کلام چار سو صفحے میں سمٹ آیا یعنی چار نہیں پانچ ہزار اشعارسے زیادہ نہیں کہے لیکن وہ بڑے اعتماد کے ساتھ اس جھوٹ کو تسلیم کراتے رہے ۔ عوامی مقبولیت کی چکاچوند میں اس فضول گوئی کی حقیقت وہ خود نہیں سمجھ سکے ۔

بشیر بدر نے مشاعروں میں اپنی تقریر وں میں ایک انکسار کے ساتھ تکبر کا اسلوب وضع کیا تھا ۔وہ موسیقاروں کی طرح جھوٹ سے احتراز یا اساتذہ کے نام لینے کے مرحلے میں اپنے کان چھوتے یا دونوںگالوں میں تھپکیاں مارتے اور کہتے جاتے کہ خدا جھوٹ نہ بلوائے ۔ خود کو حقیر فقیر بتاتے مگر گفتگو کی تان انا پرستی پر ٹوٹتی جس میں واقعی وہ دکھاوے کا انکسار بیان میں شامل کرتے مگرانانیت اور غرور وتمکنت ہی ان کے حقیقی مقاصد تھے۔ اس سے ایک بگاڑ پیدا ہوا اور بشیر بدر کے سنجیدہ چاہنے والوںکی بڑی تعداد گھٹنے لگی ۔ اردو کا تعلیم یافتہ حلقہ یوں بھی کب تک ان کی ایسی باتیں سنتا رہتا۔اہم شعرا ،ادبا اور نقادوںنے ان سے بے رخی برتنا شروع کر دیا ۔ عنوان چشتی نے ان کی شاعرانہ اسقام پر بڑا سخت مضمون لکھا ۔حالت یہ ہو گئی کہ اپنے عہد کے سب سے مقبول شاعر کی طرف سے کسی دوسرے نے بھی ادبی دفاع نہیں کیا ۔شہرت کی دوڑ بھاگ میں بشیر بدر ذرا بھی سنبھل نہ سکے اور ادبی اور علمی حلقے میں انکی قدر شناسی کے بجاے ایک بے رخی اور سرد مہری پیدا ہو گئی جو ان کے جیتے جی قائم رہی۔انہیں سولہ برسوں کی اس اذیت ناک بیماری کے دوران بھی ادبی حلقے سے قبولیت اور ہمدردی کے جو بول ملنے تھے، وہ نہیں ملے۔اس بے چارگی اور بے بسی پہ ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔

بہت پہلے بشیر بدر نے رسالہ’ شاعر‘ میں کچھ اپنے شاعرانہ اور بلیغ جملے شائع کرائے تھے۔ اسی میں ایک جملہ یہ بھی تھا ’ مشاعرے پانی کی قبریں ہیں، روز یہاں ایک نسل پیدا ہوتی ہے اور اسی میں ڈوب جاتی ہے ‘۔واقعی یہ تجربے کی بھٹی سے نکلا ہوا بیان تھا ۔انھوں نے خود کبھی خدالگتی کہی تھی:
’شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو، وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

مگر بشیر بدر اپنے عروج کے زمانے میںاس بات کو سمجھنے سے قاصر رہے ۔اس نے بعد میں ان کی شہرت کو بھی نقصان پہنچایا اور ادبی مقبولیت کے بھی بہت سارے راستے منجمد کیے ۔کاش وہ اس بات کو وقت رہتے سمجھ باتے ۔

(بشیر بدر کے شاعرانہ امتیازات اور جدید شاعر کی حیثیت سے اسلوب و بیان کے تجربوں کے حوالے سے آئندہ قسطیں ملاحظہ کریں۔ )

E.mail:safdarimamquadri@gmail.com

خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری کو ملی نئی قیادت، اردو ادب کے ممتاز محقق پروفیسر زاہد الحق ڈائریکٹر مقرر

ممتاز اردو اسکالر، شاعر اور نقاد پروفیسر زاہد الحق نے آج تاریخی اور قومی اہمیت