2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے “بڑی سازش” کیس میں جمعہ کے روز سپریم کورٹ نے تسلیم احمد اور سماجی کارکن خالد سیفی کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت دے دی۔ اس عدالتی فیصلے کو یو اے پی اے کے تحت طویل عرصے سے جیل میں بند ملزمان کے لیے بڑی راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ مقدمے میں مسلسل تاخیر اور برسوں سے جاری حراست کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ٹرائل وقت پر مکمل نہیں ہو رہا اور تاخیر کے لیے ملزمان ذمہ دار نہیں ہیں تو آئینی طور پر ذاتی آزادی کے حق پر بھی غور ضروری ہے۔
یہ مقدمہ فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق ہے، جن میں 50 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ دہلی پولیس نے اس کیس میں متعدد طلبہ رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور سی اے اے مخالف تحریک سے وابستہ افراد پر “بڑی سازش” رچنے کا الزام عائد کیا تھا۔ تسلیم احمد اور خالد سیفی بھی انہی ملزمان میں شامل ہیں، جو تقریباً پانچ سال سے جیل میں قید تھے۔
سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ صرف مقدمے میں تاخیر کو ضمانت کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے سنگین نوعیت کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی اور فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق کیسز میں عدالت کو محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
تاہم سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالتی عمل کو غیر معینہ مدت کی قید کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر کیس کو اس کے مخصوص حقائق اور حالات کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یو اے پی اے کے تحت ضمانت سے متعلق ایک اہم قانونی سوال کو بڑی بنچ کے پاس بھیج دیا۔ عدالت نے کہا کہ حالیہ کچھ فیصلوں میں مختلف آرا سامنے آئی ہیں، اس لیے اس معاملے پر واضح قانونی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
خالد سیفی طویل عرصے سے شہری حقوق اور فرقہ وارانہ تشدد کے مسائل پر سرگرم رہے ہیں۔ وہ “یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ” تنظیم سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے یو اے پی اے کے استعمال پر سوالات اٹھائے تھے۔
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آئندہ یو اے پی اے کے دیگر مقدمات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً ان کیسز میں جہاں ملزمان برسوں سے ٹرائل کے انتظار میں قید ہیں۔
سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس فیصلے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ شہری حقوق کے گروپس اسے آئینی آزادی اور عدالتی توازن کی جانب اہم قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ سرکاری مؤقف میں اب بھی کیس کی سنگینی پر زور دیا جا رہا ہے۔