تمل ناڈو: برقعہ پہنی مسلم خاتون کو بس میں سوار ہونے سے روکا گیا، کنڈکٹر اور کمپنی کے خلاف کارروائی

انصاف ٹائمس ڈیسک

تمل ناڈو کے تھوٹھوکوڈی ضلع میں ایک نجی بس کے کنڈکٹر نے برقعہ پہننے والی ایک مسلم خاتون کو بس میں سوار ہونے سے روک دیا، جس نے شدید غصے اور تنازع کو جنم دیا۔ واقعے کا وائرل ہونے والا ویڈیو سامنے آنے کے بعد ریاستی ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے بس آپریٹر کا لائسنس منسوخ کر دیا اور کنڈکٹر کو معطل کر دیا۔

واقعہ تیرُوچندور کے قریب پیش آیا، جہاں خاتون کیال پٹنم جانے کے لیے بس میں سوار ہونا چاہتی تھیں۔ باوجود اس کے کہ ان کے پاس قانونی ٹکٹ تھا، کنڈکٹر ویر بھدرا نے انہیں بس میں سوار ہونے سے روک دیا، جبکہ دیگر مسافروں کو بغیر کسی رکاوٹ کے بس میں جانے دیا گیا۔

وائرل ویڈیو میں خاتون اور کنڈکٹر کے درمیان تلخ بحث واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ خاتون نے ٹکٹ دکھا کر سفر کی اجازت مانگی، مگر کنڈکٹر نے بس مالک کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “برقعہ پہننے والی خواتین کو بس میں نہیں سوار ہونا ہے۔” کنڈکٹر نے خاتون کو مالک کا فون نمبر بھی دے دیا۔

تمل ناڈو اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (TNSTC) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے VVS Tours & Travels کمپنی کا پرمٹ منسوخ کر دیا اور کنڈکٹر کا لائسنس بھی منسوخ کر دیا۔ محکمہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا، “کسی بھی مسافر کو مذہب یا لباس کی بنیاد پر پبلک ٹرانسپورٹ سے روکنا غیر آئینی اور قابل سزا جرم ہے۔”

واقعے نے سوشل میڈیا پر غصے کی لہر پیدا کر دی۔ متعدد سول سوسائٹی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس عمل کو مذہبی امتیاز قرار دیا اور حکومت سے سخت اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان