بغیر اجازت نماز پڑھنے پر 12 مسلمانوں کو حراست میں لیا گیا، بعد میں ضمانت پر رہا

بریلی کے محمّد گنج گاؤں میں جمعہ کے روز ایک خالی مکان میں بغیر انتظامی اجازت جمعہ کی نماز ادا کرنے پر 12 مسلم مردوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا اور ان کے خلاف چالان درج کیا۔ بعد ازاں سب کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر کے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق گاؤں والوں نے اطلاع دی تھی کہ خالی مکان کئی ہفتوں سے عارضی مدرسہ یا نماز کے لیے استعمال ہو رہا تھا، لیکن وہاں کوئی قانونی اجازت موجود نہیں تھی۔ پولیس نے اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے افراد کو حراست میں لیا۔

پولیس نے کہا کہ بغیر اجازت مذہبی اجتماعات امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اس لیے افراد کے خلاف امن و امان بھنگ کرنے کی دفعات کے تحت چالان کیا گیا۔

یہ واقعہ اس وقت خبروں میں آیا جب مکان کے اندر نماز پڑھنے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ پولیس کی سینئر افسر SP (ساؤتھ) انشیکا ورما نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی مذہبی یا سماجی سرگرمی کے لیے انتظامی اجازت حاصل کریں اور قانون کا احترام کریں۔

واقعے نے مذہبی آزادی اور نجی املاک میں عبادت کے حق پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر وہاں جہاں مسجد یا مناسب نماز کے مقامات کی کمی ہو۔

انڈیا اور اپوزیشن: انضمام، اتحاد، تنظیم,نظریہ اور مزاحمت — بقا کی آخری جنگ

✍️سیف الرحمٰنچیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس (اردو،ہندی،انگلش نیوز ویب سائٹ) اِن دنوں ہندوستانی سیاست میں ایسے

بہار کے امداد یافتہ مدارس کی جانچ کا فیصلہ، 10 دن میں رپورٹ طلب؛ ہر بلاک میں تین رکنی کمیٹی، تصاویر لینا بھی لازمی

بہار حکومت نے ریاست کے تمام غیر سرکاری تسلیم شدہ امداد یافتہ مدارس کی جانچ

جے ڈی یو کا دعویٰ: اراکین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، تنظیمی توسیع کو عوامی اعتماد کی جیت قرار دیا

جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے رکن خاندان