
وامن مشرام کی قیادت والی دلت تنظیم بام سیف میں قومی سطح پر بغاوت ہوگئی ہے خبر ہیکہ گزشتہ دنوں کانپور میں ملک کے تمام ریاستوں سے بام سیف سے تعلق رکھنے والے لیڈران کی ایک اہم میٹنگ ہوئی جسمیں تمام نے یہ مانا کہ وامن مشرام کی انتخابی فیصلوں نے بھاجپا کو فائدہ پہونچانے کا کام کیا ہے تو وہیں ڈکٹیٹرشپ تحریک کے اندر چل رہی ہے اور اس کے بعد تمام لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اب وامن مشرام سے الگ ہوکر مشن کو آگے بڑھایا جائے.

انصاف ٹائمز سے بات کرتے ہوئے انکی سیاسی پارٹی بہوجن مکتی پارٹی کے قومی نائب صدر ڈاکٹر اوماشنکر سہنی نے کہاکہ بہار الیکشن میں لالو یادو کی پارٹی راجد بام سیف کو 05حلقوں میں مقابلہ کرانے کا آفر دے رہے تھے جس کو وامن مشرام نے قبول نہیں کیا اور عوام کو پپو یادو، کشواہا و خود اپنی پارٹی کے امیدواروں کے بیچ کنفیوز کرکے رکھا جس کا فائدہ بھاجپا کو ملا انہوں نے وامن مشرام کی تقریروں پر بھی سوال کھڑا کرتے ہوۓ کہاکہ انکے نعروں و تقریروں سے بہوجن ایک نہیں ہوسکا لیکن برہمن ایک ہوگئے سہنی نے کہاکہ ملنواسی کا نعرہ لگانے والوں کی تنظیم پر خود ایک خاص طبقہ کا قبضہ ہے و دیگر طبقات کو صرف استعمال کیا جاتا ہے اوماشنکر نے کہاکہ اب پورے ملک میں بہوجن ایکٹوسٹ کو ساتھ لیکر بہوجن تحریک کو نیا رخ دینے کی کوشش ہورہی ہے جسکا رزلٹ جلد سامنے آئے گابام سیف پر و دیگر دلت قیادت پر گہری نظر رکھنے والے ایک ایکٹوسٹ نے بتایا کہ اس ٹوٹ کے بعد وامن مشرام کی قیادت کے پاس کچھ بھی نہیں بچا ہے اور بام سیف کے حقیقی لیڈران و کارکنان ان سے الگ ہوچکے ہیں